’جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کی رپورٹ پیش کریں‘

بھارتی سپریم کورٹ فائل
Image caption ہمیں مکمل تفصیلات سےآگاہ کریں تاکہ ہم حکم جاری کرسکیں: سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ نےحکومت کو دو ہفتے میں ایسے پاکستانیوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے جو لمبے عرصے سے قید ہیں اور جن پر کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے یہ احکامات مفاد عامہ کی ایک پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے دیے۔

چار افراد پینسٹھ کی جنگ سے جیل میں ہیں، سینیئر وکیل بھیم سنگھ

بھارتی سپریم کورٹ نے اس بات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے کہ بھارتی جیلوں میں بہت سے ایسے پاکستانی شہری لمبے عرصے سے قید ہیں جن پر کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ وفاقی حکومت دو ہفتوں کے اندر پاکستانی قیدیوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کرے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ حکومت یہ بھی بتائے کہ بھارتی جیلوں میں قید چار پاکستانی خواتین کو کیوں بلا تاخیر وطن واپس نہ بھیج دیا جائے۔

عرضی گزار سینیئر وکیل بھیم سنگھ نے اپنے پٹیشن میں کہا ہے کہ جموں کی جیل میں چار پاکستانی شہری انیس سو پینسٹھ سے قید ہیں اور ان پر کھی مقدمہ نہیں چلایا گیا ہے۔

اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ لوگ کن حالات میں گرفتار کیے گئے تھے لیکن پروفیسر بھیم سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’یہ لوگ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے تھے اور چھالیس سال سے جیل میں ہیں۔۔۔ان کے رشتہ داروں نے ہم سے رابطہ کیا ہے ۔۔۔ ان لوگوں کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہے۔‘

ان کے بقول حکومت کا موقف یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے کبھی ان لوگوں کی شناخت کی تصدیق نہیں کی گئی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق جسٹس آر این لودھا کی سربراہی میں ایک بنچ نے کہا کہ ’یہ بات بہت چونکانے والی ہے کہ بڑی تعداد میں ایسے پاکستانی شہری بھارتی جیلوں میں بند ہیں جن کے خلاف مقدمات کی کبھی سماعت نہیں ہوئی ہے۔‘

مسٹر بھیم سنگھ نے کہا کہ ایسے قیدیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔

عدالت نے حکومت سے کہا ’آپ کو کچھ چیزوں کو سنجیدگی سےلینا چاہیے۔ ہمیں مکمل تفصیلات سےآگاہ کریں تاکہ ہم حکم جاری کرسکیں ۔۔۔ ہمیں اس بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں کہ بھارتی جیلوں میں کتنے غیرملکی قید ہیں۔‘

عدالت نے مزید کہا ’آئین میں انفرادی آزادی کا حق ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے اور عوام کو اس سے زیادہ قیمتی کوئی حق نہیں دیا گیا ہے۔‘

پروفیسر بھیم سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ ان قیدیوں میں بہت سےایسے لوگ بھی شامل ہیں جو غلطی سے لائن آف کنٹرول پار کرکے بھارتی علاقے میں داخل ہوگئے تھے۔

اس سے قبل اگست میں نائب وزیر داخلہ ایم رام چندرن نے کہا تھا کہ بھارتی جیلوں میں تقریباً تین سو اسّی پاکستانی شہری قید ہیں جن میں اٹھارہ ماہی گیر بھی شامل ہیں۔

وزیر نے لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان میں مہندی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے پینسٹھ اراکین بھی شامل ہیں جو دلی کی تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے اور جنہیں پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ یو این ایچ سی آر کسی تیسرے ملک بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

مسٹر رام چندرن کے مطابق سب سے زیادہ اکیاسی قیدی جموں کی جیل میں ہیں۔

اس طرح کےالزامات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں دونوں ملکوں کی جیلوں میں بہت سے ایسے قیدی بھی ہیں جو اپنی سزا کی مدت پوری کر چکے ہیں لیکن حکومتوں کی کوتاہی کی وجہ سے اپنے ملک نہیں لوٹ پا رہے۔

سپریم کورٹ نےجنوری میں بھی اکسٹھ پاکستانی شہریوں کی رہائی کا حکم دیا تھا جو اپنی سزائیں مکمل کر چکے تھے۔

اس سے پہلے مسٹر بھیم سنگھ نے عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی جیلوں میں ساڑھے سات سو پاکستانی قید ہیں جن میں سے دو سو پانچ سزائیں مکمل کرنے کے بعد واطن واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس کے علاوہ تین سو اٹھارہ کو ابھی پاکستانی سفارتکاروں تک رسائی فراہم نہیں کی گئی ہے اور دو سو پانچ کی ابھی شہریت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اسی بارے میں