بھارتی بچوں کے لیے ’تعلیم کا حق‘

Image caption بھارت میں تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ بچے زندگی میں سکول کا رخ ہی نہیں کر پاتے

بھارتی حکومت نے چھ سے چودہ سال کی عمر کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کی ایک نئی سکیم شروع کی ہے جس کا نام ’تعلیم کا حق‘ رکھا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت سکولوں کو اپنی کم از کم پچیس فیصد نشستیں غریب خاندان کے بچوں کے لیے مخصوص کرنا ہوں گی۔

حکومت نے اس منصوبہ کے لیے مطلوبہ رقم فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اس شعبے میں کام کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت غریبوں کو اس منصوبے کے بارے میں معلومات دینے کے لیے زیادہ کوشش نہیں کر رہی ہے۔

بھارت میں تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ بچے زندگی میں سکول کا رخ ہی نہیں کر پاتے۔

اس منصوبہ کی شروعات انسانی وسائل کے وزیر کپل سبل اور لوک سبھا کی رکن میرا کمار نے ہریانہ کے ضلع میوات میں جمعہ کو کی۔

یہ علاقہ پورے بھارت میں تعلیم کے معاملے میں سب سے پسماندہ تصور کیا جاتا ہے۔

اس تقریب میں وزیراعظم منموہن سنگھ کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے طلبا سے کہا کہ کامیاب ہونے کے لیے انہیں محنت سے پڑھنا ہوگا۔

اس موقع پر تربیت یافتہ اساتذہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کپل سبل نے کہا کہ ان کا مقصد اساتذہ اور طلباء کے درمیان ایک اور تیس کا تناسب برقرار رکھنا ہے تاکہ انہیں معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔

خواتین کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے میرا کمار نے کہا کہ سکولوں میں داخلے کے بارے میں بچیوں کو زیادہ سے زیادہ معلومات دی جانی چاہیئیں۔

’تعلیم کا حق‘ منصوبہ مولانا آزاد کی سالگرہ کے موقع پر شروع کیا گیا ہے جن کے جنم دن کو بھارت میں تعلیم کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔