عبدالکلام سے امریکہ نے معافی مانگ لی

اے پی جے ابولکلام تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اے پی جے ابولکلام کے دفتر نے وزارات خارجہ کو اس واقعہ کی اطلاع دی ہے

امریکہ نے بھارت کے سابق صدر اے پی جے عبدلکلام کے حالیہ امریکہ دورے کے دوران جامہ تلاشی لینے پر معافی مانگی ہے۔ ہندوستان کی حکومت نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی تھی اور سفارتی سطح پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا

امریکہ کی جانب سے تحریری طور پر بھارت کی حکومت اور اے پی جے عبدلکلام سے معافی مانگی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عبدالکلام کی تلاشی لیتے وقت ’اہم شخصیات کی سیکریننگ کا جو مناسب طریقہ ہے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔‘

دلی میں واقع امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انتیس ستمبر کو جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ پر مسٹر عبدالکلام کے ساتھ سیکورٹی اہلکاروں کے رویہ سے انہیں جو تکلیف پہنچی ہے اس کے لیے انہیں بے حد افسوس ہے۔

واضح رہے کہ مسٹر عبدالکلام کے دفترکی جانب سے وزارات خارجہ کو اس واقع کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی جس کے بعد وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے امریکہ میں بھارت کی سفارتکار نروپما را‎‎ؤ سے کہا تھا کہ وہ تحریری طور پر واشنگٹن کے سینیر اہلکاروں سے اس بارے میں بات کریں۔

اطلاعات کے مطابق سابق صدر اے پی جی عبدلکلام کی جامہ تلاشی کا یہ واقعہ انتیس ستمبر کو اس وقت پیش آیا تھا جب مسٹر عبدالکلام نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ سے بھارت آنے کے لیے ائیرانڈیا کی پرواز پر سوار ہونے والے تھے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی سیکورٹی اہلکاروں نے ہوائی جہاز میں سوار ہونے سے پہلے اور ہوائی جہاز میں بیٹھنے کے بعد بھی اے پی جے عبدلکلام کی تلاشی لی۔ جہاز میں بیھٹنے کے بعد انہوں نے کلام کے جوتے اور جیکٹ اتر‎وائے جو بعد میں واپس کردیے گئے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ کسی اعلیٰ ہندوستانی اہلکار یا نامی شخصیت کی امریکی سیکورٹی اہلکاروں نے اس طرح کی جامہ تلاشی لی ہے۔ اس سے پہلے اداکار شاہ رخ خان ، شہری ہوا بازی کے وزیر پرفل پٹیل، اور امریکہ میں ہندوستان کی سابق سفیر کے ساتھ اس طرح کی جامہ تلاشی کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

اسی بارے میں