بھارت پاک کےسکریٹری تجارت میں بات چیت

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان نے حال ہی میں بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ملک قرار دیا ہے

بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارتی امور سے متعلق سکریٹری سطح کی دو روزہ بات چيت کا پیر سے نئی دلی میں آغاز ہوگیا ہے۔

پاکستان نے حال ہی میں بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دیا ہے اور اس کے بعد سے دونوں ملکوں میں یہ پہلی بات چيت ہے۔

مذاکرات میں پاکستان کے سکریٹری تجارت ظفر محمود پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ ان کے بھارتی ہم منصب راہول کھلّر بھارتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ بھارت بات چیت کے دوران پاکستانی کابینہ کے اس فیصلے پر مزید وضاحت چاہتا ہے جس کے تحت بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان چاہتا ہے کہ تجارتی برادری کے لیے ویزا کے اجراء میں آسانیاں برتی جائیں اور وہ اس مسئلے پر بھارت سے بات چیت کریگا۔

سنیچر کو بھارت پہنچنے کے بعد محمود ظفر نے کہا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تجارتی روابط بہتر کرنےکے اپنے وعدے پر قائم ہے اور وہ اس سلسلے میں تمام کوششیں کریگا۔

پاکستانی وفد کی بھارت روانہ ہونے سے پہلے پاکستان نے بھارت سے قابل درآمد اشیاء کی فہرست میں بارہ اشیاء کے اضافے کی منظوری دی تھی۔

پاکستان کی وزراتِ تجارت نے وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابط کمیٹی یعنی ای سی سی کو ایک سمری بھیجی تھی جس میں سفارش کی گئی تھی کہ وہ بھارت سے درآمد کرنے والی اشیاء کی فہرست میں اضافہ کرے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان اشیاء میں مشینری کے علاوہ ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت کے لیے خام مال بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں