کشمیر، آرمڈ فورسز ایکٹ پر بات چیت

عمر عبداللہ
Image caption عمر عبداللہ نے حریت کو بھی چیلنج کیا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں نافذ سخت فوجی قوانین کو ہٹانے کے لیے ریاست کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے دلی میں وزیراعظم سمیت کئی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

عمر عبداللہ نے پیر کو وزیراعظم منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدامبرم سے ملاقات کے بعد کہا کہ انہوں نے کشمیر میں سکیورٹی کی صورت حال پر بات چيت کی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سخت فوجی قانون ’آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ‘ نافذ ہے جس کے تحت بغیر کسی جوابدہی کے فوج کو زبردست اختیارات حاصل ہیں۔

عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ ریاست میں اب سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہے اس لیے اس قانون کو بعض علاقوں سے ہٹا لیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس سے قبل اتوار کو انہوں نے وزیر دفاع اے کے اینٹنی اور فوج کے سربراہ وی کے سنگھ سے ملاقات کی تھی۔

اطلاعات ہیں کہ فوج اس قانون کو ہٹانے کے حق میں نہیں ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ وادی میں امن و امان کی صورت حال اسی طرح کے سخت قوانین کی بنیاد پر قائم ہے اور اس کے ہٹانے سے حالات خراب ہونے کا خطرہ ہے۔

اس متنازعہ قانون کو ہٹانے سے متعلق بحث کافی دنوں سے جاری ہے اور اسی کے حوالے سے علحیدگی پسند تنظیم حریت نے کہا تھا کہ اسی کے بدولت بھارتی فوج کشمیر میں قابض اور اگر وہ اسے ہٹا لے تو پھر پتہ چلے گا کہ عوام کیا چاہتی ہے۔

لیکن ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے حریت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھمکیاں دے رہے ہیں اور اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہٹانے تو دیں دیکھتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں، ویسے بھی وادی میں کئی جگہ فوج نہیں ہے تو وہ کیا کر لیتے ہیں۔ وہ تو چاہتے یہی ہیں کہ حالات خراب رہیں کیونکہ اس میں ان کا فائدہ ہے۔ دھمکیوں سے ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے‘۔

متنازعہ قانون افسپا کو محدود پیمانے پر ہٹانے کا مطالبہ وزیراعلٰی عمرعبداللہ پچھلے دو ہفتوں سے کر رہے ہیں۔ ان کے اس مطالبے کی مخالفت نہ صرف حکومت ہند کی وزارت دفاع نے کی ہے بلکہ مسٹر عبداللہ کی مخلوط حکومت کے بعض وزراء نے بھی اس فیصلہ کی نکتہ چینی کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یونیفائیڈ ہیڈکوارٹرس کے اجلاس میں فوجی کمانڈروں نے وزیراعلٰی کو اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مسلح شدت پسندوں کی بڑی تعداد کنٹرول لائن کے ذریعہ پاکستانی عسکریت پسند بھارتی علاقوں میں داخل ہونے کی تاک میں ہیں۔

اسی بارے میں