غیرت کے نام پر قتل، آٹھ کو سزائے موت

پنچایت(فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کے دیہی علاقوں میں پنچایتی فیصلوں کا چلن عام ہے

بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر متھرا کی ایک عدالت نےغیرت کے نام پر تین افراد کے قتل کے بیس سال پرانے مقدمے میں آٹھ افراد کو پھانسی اور بیس کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

ان افراد پر ایک دلت لڑکے، اس کی اونچی ذات سے تعلق رکھنے والی محبوبہ اور اس کے دلت رشتہ دار کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔

یہ واقعہ بائیس مارچ سنہ انیس سو اکیانوے میں متھرا میں اس وقت پیش آیا تھا جب ہریانہ کی سرحد پر واقع مہرانا گاؤں میں ایک دلت لڑکے وجیندر نے جاٹ برادری سے تعلق رکھنے والی اپنی محبوبہ روشنی کے ساتھ بھاگ کر شادی کر لی تھی۔

لڑکے کے چچا زاد بھائی رام کشن نے اس کام میں ان کی مدد کی تھی۔ شادی کے پانچ دن بعد یہ لوگ یہ سوچ کر گاؤں واپس آ گئے تھے کہ اب ان کے خاندان والوں کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہوگا۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ان کی واپسی پر جاٹ برادری کے لوگوں نے پنچایت بلا کر ان تینوں کو پھانسی کی سزا سنا دی تھی اور یہ بھی کہا گیا کہ انہیں پھانسی دینے کا کام لڑکوں کے والدین ہی کریں گے۔

پنچایت کے فیصلے پر ان تینوں کو برگد کے درخت سے پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔

ہلاک ہونے والے لڑکے کے والدین نے بعدازاں مقدمہ درج کروایا تھا اور انہی کی گواہی اور پیروی کی بنیاد پر عدالت نے ملزمان کو قصوروار قرار دیا۔

فیصلہ سنائے جانے کے دوران وکیلِ صفائی نے پھانسی کی سزا پر اعتراض کیا اور اپنے دلائل کے حق میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا۔

جس پر سیشن جج اے کے اپادھیائے اپنے چیمبر میں چلے گئے اور نظر ثانی کے بعد عدالت نے سات افراد کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا کیونکہ وہ کافی بوڑھے تھے۔