ماليگاؤں دھماکہ، ملزمان جیل سے رہا

مالیگاؤں بلاسٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مالیگاؤں بم دھماکے کے بعد متعدد مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا

ممبئی کی عدالت نے دو ہزار چھ میں ملیگاؤں بم دھماکے کے سلسلے میں جن نو مسلمانوں کو ضمانت دی تھی ان میں سے سات کو آج رہا کر دیا گیا ہے۔

عدالت نے ان افراد کی پانچ نومبر کو ضمانت منظور کی تھی لیکن جیل سے باہر آنے میں انہیں مزید گیارہ روز لگے ہیں۔

عدالت نے سبھی نو افراد کی ضمانت منظور کی تھی لیکن ان میں سے دو ممبئی بم دھماکے کے بھی ملزم ہیں اس لیے وہ رہا نہیں ہو سکے۔

ممبئی کے ارتھر روڑ جیل کے باہر ان افراد کی رہائی کے وقت مسلمانوں کی بڑی تعداد جمع تھی جہاں ان کا شاندار استقال کیا گيا۔ اس جیل سے چھ افراد باہر آئے جبکہ ایک شخص بائیکلہ جیل سے رہا ہوا۔

پانچ نومبر کی صبح قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ ملزمان کی جانب سے ضمانت کی درخواست کی مخالفت نہیں کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق این آئی اے کا اب یہ موقف ہے کہ ان دھماکوں میں مسلمان شدت پسندوں کے بجائے ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ تھا۔

مالیگاؤں کی حمیدیہ مسجد کے قریب اس بم دھماکےمیں سینتنس افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

سرکاری وکیل روہنی سالیان نے عدالت کو بتایا کہ حیدرآباد کی مکّہ مسجد پر حملے کے سلسلے میں گرفتار کیے جانے والے ہندو مذہبی رہنما سوامی اسیما آنند نے این آئی اے کو بتایا تھا کہ مالیگاؤں کے بم دھماکے میں بھی ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ تھا۔

Image caption ملزمین کے اہل خانہ اپنے بچوں کی رہائی سے خوش ہیں

اس کے بعد این آئی اے نے مزید تفتیش کی اور پرانے شواہد کا دوبارہ جائزہ لیا اور’ حقائق اور حالات کی بنیاد پر کافی غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیاگیا کہ سبھی ملزمان کی ضمانت کی مخالفت نہ کی جائے۔‘

لیکن این آئی اے نے کہا کہ اس کی تفتیش ابھی جاری ہے تاکہ اس کیس کے سلسلے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جاسکے۔

عدالت نے حکم دیا تھا کہ ملزمان کو پچاس ہزار روپے کے مچلکے پر رہا کردیا جائے۔

سوامی اسیما آنند مکّہ مسجد پر بم حملے کے سلسلے میں جیل میں ہیں۔ یہ حملہ دو ہزار سات میں کیا گیا تھا اور بم حملے اور اس بعد پولیس کی کاروائی میں تقریبا بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کے سلسلےمیں بھی پہلے مسلمانوں کو ہی گرفتار کیا تھا جنہیں لمبی قانونی کارروائی کے بعد بے گناہ پایا گیا۔ سوامی اسیم آنند نے پہلے اقبال جرم کر لیا تھا لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ ان سے زبردستی اقبال جرم کرایا گیا تھا۔

ملزمان نے اپنی ضمانت کی درخواست میں کہا تھا کہ سوامی اسیم آنند کے اقبالیہ بیان سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ اصل مجرم اور لوگ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ چار سال سے جیل میں ہیں حالانکہ ان کے خلاف براہ راست کوئی شواہد نہیں ہیں۔

آٹھ ستمبر سنہ دو ہزار چھ کو مالیگاؤں میں جو بم دھماکہ ہوا تھا اس کی تفتیش پہلے مالیگاؤں پولیس نے کی تھی اس کے بعد کیس مہاراشٹر کی انسداد دہشت گردی عملہ کے سپرد کیاگیا تھا۔ اس سلسلے میں کئي مسلمانوں کو گرفتار کیا تھا۔

ہندو انتہا پسند تنظیم کے رکن سوامی اسیما نند کے مجسٹریٹ کے سامنے اقبالی بیان کے بعد مالیگاؤں شہر کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور وکلاء نے مالیگاؤں بم دھماکے میں گرفتار ملزمان کی رہائی کے لیےکوششیں تیز کی تھیں

سوامی اسیما نند جنہیں سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سی بی آئی ) نے بم دھماکوں کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا تھا، دوران حراست مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں ہوئے بیشتر بم دھماکوں میں آر ایس ایس کے سینئر پرچارک شامل ہیں۔

اسی بارے میں