بدعنوانی: اڈوانی کی حکومت پر نکتہ چینی

لال کرشن اڈوانی
Image caption اس سے پہلے بھی اڈوانی یاترائیں کر چکے ہیں

بھارت میں اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما لال کرشن اڈوانی نے اپنی یاترا کے اختتام پر بدعنوانی کے حوالے سے حکومت پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے اور ان کی جماعت آئندہ پارلیمانی اجلاس میں اس مسئلے پر اواز اٹھائے گی۔

’جن چیتنا یاترا‘ یعنی بدعنوانی کے خلاف بیداری مہم آج دلی میں ختم ہوئی۔ اس موقع پر انہیں سننے کے لیے دلی کے رام لیلا گراؤنڈ پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا ’یہ سرکار سب سے زیادہ بدعنوان حکومت مانی جاتی ہے اور اس کی وجہ قانون میں خامیاں نہیں بلکہ کرپشن سے لڑنے کی اس کی نیت کا صاف نا ہونا ہے‘۔

لال کرشن اڈوانی اپنی اڑتیس روزہ یاترا کے دوران کئی ایسی ریاستوں سےگزرے جہاں اسمبلیوں کے انتخابات جلدی ہی ہونے والے ہیں۔ اپنے خطاب میں مسٹر اڈوانی نے بدعنوانی کے تعلق سے حکومت پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ منموہن سنگھ کی حکومت اب تک کہ سب سے بدعنوان حکومت ہے۔‘

یاترا کے دوران اڈاونی بیرونی ممالک میں جمع کالے دھن سے متعلق بھی آواز اٹھاتے رہے اور اس تعلق سے انہوں نے پھر حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا ہے۔ ’بہت کچھ پوچھنے کے بعد بھی حکومت نے کالے دھن سے متعلق کوئی مناسب بیان نہیں دیا ہے۔ اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ سات سو اکاؤنٹ سے متعلق معلومات فرانس نے فراہم کی ہے لیکن ہمیں کچھ نہیں بتایا جاتا ہے تو آئندہ اجلاس میں کیا ہوگاہمیں نہیں معلوم ہے۔‘

لاکل کرشن اڈوانی نے کہا کہ منگل سے پارلیمان کا جو سرمائی اجلاس شروع ہو رہا ہے اس میں ان کی جماعت ان تمام امور پر بحث کا مطالبہ کریگي۔

یاترا کے اختتام پر رام لیلا گراؤنڈ میں ان کے استقبال کے لیے پارٹی کے تمام سینیئر رہنما موجود تھے۔ اس موقع پر لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنما سشما سواراج نے مہنگائی کے تعلق سے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ مہنگائی کے لیے حکومت کی پالیسیاں ذمہ دار ہی ہیں۔

اس سے پہلے بھی اڈوانی یاترائیں کر چکے ہیں لیکن اس کا آغاز انہوں نے انیس سو نواسی میں سومناتھ سے ایودھیا تک کی اس متنازعہ رتھ یاترا سے کیا تھا جس سے ملک میں مذہبی منافرت کی لہر دوڑ گئی تھی۔

اپنی اس یاترا سے اڈوانی نے رام جنم بھومی کی تحریک عروج پر پہنچا دی تھی اور بی جے پی کے سب سے قدآور رہنماء بن کر ابھرے تھے۔ اسی یاترا کے بعد سنہ انیس سو بانوے میں بابری مسجد مسمار کر دی گئی تھی اور اس کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں بھڑکے فرقہ وارانہ فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

اس سے ملک کے سماجی اور سیکولر تانے بانے کو بے پناہ نقصان پہنچا اور نوے کی دہائی کے واقعات اڈوانی کی پہچان بن گئے۔ تاہم اسی یاترا کے بعد پارٹی کو قومی سطح پر شناخت ملی اور پھر وہ اقتدار تک بھی پہنچي۔