عشرت جہاں ’انکاؤنٹر‘ فرضی تھا، ایس آئي ٹی

مودی
Image caption پہلے بھی اس انکاؤنٹر کو فرضی بتایا گيا تھا لیکن مودی کی حکومت نے اسے مسترد کردیا تھا

بھارت کی ریاست گجرات میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم نے انیس سالہ عشرت جہاں اور تین دیگر افراد کے ’انکاؤنٹر‘ کو فرضی قرار دیا ہے۔

تفتیشی ٹیم نے سفارش کی ہے کہ اس پولیس مقابلے میں ملوث تمام پولیس افسروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

سنہ دو ہزار چار میں گجرات ہائی کورٹ کے ذریعے تشکیل دی گئی خصوصی تفتیشی ٹیم نے عدالت عالیہ کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے جو شواہد جمع کیے ہیں ان سے یہ واضح ہے کہ عشرت جہاں اور تین دیگر افراد کو فرضی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

تفتیشی ٹیم نے عدالت کو یہ بھی بتایا ہے کہ عشرت جہاں اور ان کے ساتھیوں کو پولیس مقابلے سے پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا تھا۔

عدالت عالیہ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے اور اس نے حکم دیا ہے کہ تما م متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

گجرات پولیس ابھی تک یہی دعوی کرتی رہی ہے کہ یہ سب ہی دہشت گرد تھے اور انہیں جون سنہ دو ہزار چار میں احمد آباد کے نزدیک ایک تصادم میں مارا گیا تھا۔ عشرت جہاں کا تعلق ممبئی سے تھا اور وہ کالج کی طالبہ تھیں۔ ان کےگھر والوں کے مطابق واہ پرنیش پلئی نام کے ایک شخص کی پرفیوم کے بزنس میں کام کرتی تھیں۔

پولیس کے مطابق پندرہ جون سنہ دو ہزار چار کو احمدآباد کی خصوصی پولیس نے شہر کے نواح میں ایک کار کو روکا اور اس کے بعد ہونے والے انکاؤنٹر میں چار افراد کو ہلاک کر دیا۔ عشرت جہاں اور پرنیش پلئی کے علاوہ پولیس نے دو دیگر افراد کے نام امجد علی رانا اور ذیشان جوہر بتائے تھے اور کہا تھا کہ یہ دونوں پاکستانی شہری ہیں۔

اس تصادم کے بارے میں ابتداء سے ہی پولیس کے دعوے کے بارے میں سوالات اٹھتے رہے ہیں اور سنہ دو ہزار نو میں ایک مجسٹرییٹ کی تفتیش میں اسے ایک فرضی پولیس مقابلہ قرار دیا گیا تھا۔ لیکن گجرات حکومت نے اس تفتیش کو قانونی اور تکنیکی بنیادوں پر غیر آئینی قرار دیا تھا۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس انکاؤنٹر میں بھی وہی پولیس افسران ملوث ہیں جنہیں سہراب الدین اور ان کی بیوی کوثر بی بی اور ان کے ایک ساتھی کے فرضی پولیس مقابلے میں پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سہراب الدین کو بھی دہشت گرد بتا کر ہلاک کیا گیا تھا۔

عشرت جہاں کی والدہ اور پرنیش پلئی کے وکیلوں کہ کہنا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش اسی خصوصی تفتیشی ٹیم سے کرائی جائے جس نے اس معاملے کی تفتیش کی ہے۔

عشرت جہان کے چچا نے عدالت سے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمارے دامن پر دہشتگردی کا جو داغ لگایا گیا تھا وہ اس تفتیش کے بعد دھل گیا ہے۔’انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جو لوگ بھی اس میں ملوث تھے انہیں سزا دی جائے۔‘

پرنیش پلئی کے وکیل مکل سنہا نے کہا ہے کہ ’یہ صرف ایک فرضی تصادم نہیں تھا۔ اس کے پیچھے ایک سیاسی سازش تھی اور اس سازش کی تفتیش ہونی جاہیئے۔‘

گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ ان کی حکومت نہ صرف یہ کہ یہ اسرار کرتی رہی کہ یہ تصادم بالکل صحیح تھے بلکہ ان کے بارے میں سوال کرنے والوں کو ریاست کا مخالف قرار دے رہے تھے۔

اسی بارے میں