ٹو جی مقدمات کی سماعت تہاڑ جیل میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اے راجہ نے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے

دلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق پٹیالہ کی عدالت نے ٹو جی بدعنوانی کے معاملے میں تمام مقدمات کی سماعت کو تہاڑ جیل میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس معاملے میں سی بی آئی کے خصوصی جج او پی سینی نے اعلان کیا کہ دلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق عدالتی کارروائی تہاڑ جیل منتقل کی جار ہی ہے۔

عدالت کے بیان کے مطابق خصوصی اختیارت کے تحت ’ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ٹو جی سپیکٹرم معاملے کی سماعت تہاڑ جیل کے کامپلیکس میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔‘

ٹو جی سپیکٹرم بدعنوانی کے حوالے سے جیل میں بند سابق مرکزی وزیر مواصلات اور رکن پارلیمان کنی موڑی سمیت کئی ملزمان نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اے راجہ نے بطور احتجاج عدالت میں کہا ’میں نہیں سمجھ پارہا ہوں کہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے۔‘

ملزمان کے وکیل نے بھی اس فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہاڑ جیل میں کیس منتقل کرنے کے فیصلے کی کوئی مناسب وجہ نظر نہیں آتی۔

Image caption سی بی آئی نے کنی موڑی کی ضمانت کی مخالفت نہیں کی تب بھی جج نے ضمانت نہیں دی

دفاعی وکلاء نے اس فیصلے کو بڑی عدالت میں چیلنچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹو جی سپیکٹرم معاملے کی تفتیش کے بعد ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس عمل کے بعد عام طور پر ملزمان کو ضمانت مل جاتی ہے۔

لیکن عدالت نے اے راجہ، رکن پارلیمان کنی موڑی، کلائی نار ٹی وی کے سربراہ شرد کمار، سوان ٹیلی کام کے پرموٹر شاہد بلوا، مواصلات کے سابق مرکزی وزیر اے راجہ کے سابق سیکریٹری آر کے چندولیہ، آصف بلوا، راجیو اگروال اور فلم پروڈیوسر کریم مورانی کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔

ان تمام پر دفعہ 409 کے تحت مجرمانہ غفلت اور مجرمانہ سازش کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان دفعات کے تحت مجرم پائے جانے پر عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں