بھارت: روپےکی گرتی قیمت پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈالر کے مہنگے ہونے کے سبب بھارتی معیشت پر اثر پڑھ رہا ہے

یورپی معاشی بحران اور ملکی صورتحا ل کے پیش نظر بھارتی روپے کی قیمت تیزی سےگرتی جا رہی ہے اور اس وقت وہ ڈالر کے مقابلے باون روپے پندرہ پیسے تک نیچے آ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قیمت گرنے سے معیشت کے دوسرے شعبوں پر بھی اثر پڑےگا۔

بھارت میں پچھلے ڈیڑھ برس کے دوران ریزرو بینک آف انڈیا نے تیرہ مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود افراط زر میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور یہ اوسطاً دس فیصد کے آس پاس ہی رہی ہے۔

روپے کی قیمت گرنے سے کھانے پینے کی اشیاء مزید مہنگی ہوں گی کیونکہ بھارت کو اپنی درآمدات کے لیے اب زیادہ پیسے ادا کرنے ہوں گے۔

ستمبر دو ہزار نو میں امریکی ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت باون رو پے بیس پیسے تک نیچے آئی تھی لیکن وہ بہت مختصر وقت کے لیے تھی۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار یہ قیت مزید نیچے جا سکتی ہے۔

بھارتی روپیہ اس برس ایشیاء کی سب سے کمزور کرنسی ثابت ہوا ہے۔ گزشتہ جولائی سے روپے کی قیمت میں پندرہ فیصد سے زیادہ کی گراوٹ آ چکی ہے۔

روپے کی قیمت گرنے کا مطلب ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار بھارت سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں اور بھارتی درآمدکاروں کی طرف سے ڈالر کی مانگ زیادہ ہے۔ ساتھ ہی روپے کی قیمت مزید گرنے کی توقع میں بھارتی بر آمدکار اپنی برآمدات کا پیسہ غیر ممالک میں روکے ہوئے ہیں تاکہ انہیں روپے کی قدر کم ہونے پر مذید فائدہ ہو سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈآلر کے مقابلے بھارتی روپے ميں مستقل گرواٹ آرہی ہے

افراط زر کی اونچی شرح اور اونچی شرح سود سے ملک کے صنعتی شعبوں پر برا اثر پڑا ہے۔ حصص بازارمیں پہلے ہی سترہ فیصد کی گراوٹ آچکی ہے اور پیر کو یہ سولہ ہزار کے اعشاریے سے نیچے پہنچ گیا تھا۔

اس کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کار اپنے پیسے یہاں سے نکالنے لگے ہیں جس سے روپے کی قیمت پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں بہت ممکن ہے کہ ریزرو بینک آف نڈیا کو کرنسی مارکٹ کے اتار چڑھاؤ میں دخل دینا پڑے۔

روپے کی گرتی قیمت کا ایک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ غیر ممالک میں مقیم بھارتیوں نے اچھی قیمت ملنے کے سبب گزشتہ تین مہینے میں اکیس ارب ڈالر بھارت بھیجے ہیں۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ غیر مقیم عام بچت اکاؤنٹ میں جمع کیا گیا ہے جس پر بھارتی بینک سالانہ دس فیصد تک سود دے رہے ہیں۔

ان کھاتوں میں صرف ستمبر کے مہینے میں پانچ سو پینسٹھ ملین ڈالر جمع کیے گئے تھے۔ عالمی بینک کے مطابق پوری دنیا میں سب سے زیادہ پیسے اپنے ملک کو بھیجنے والے بھارتی لوگ ہیں۔ گزشتہ برس بھارتیوں نے پچپن ارب ڈالر بھارت بھیجے تھے اور وہ نقد زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

بھارت کے زرمبادلہ کے ذخیرے میں اس وقت تین سو بیس ارب ڈالر جمع ہیں۔

اسی بارے میں