ٹوجی سپیکٹرم:پانچ ملزمان کی ضمانت منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے اے راجہ کی ضمانت کے بھی امکان پیدا ہوئے ہیں

بھارت کی سپریم کورٹ نے ٹو جی بدعنوانی کے معاملے میں ملک کی پانچ بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے ایگزیکٹوز کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔

ٹو جی سپیکٹرم میں مبینہ بدعنوانی کے ملزمان کئی ماہ سے دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں اور اس کیس میں پہلی بار سپریم کورٹ نے کسی کی بھی ضمانت منظور کی ہے۔

جن افراد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گيا ہے اس میں یونیٹیک کمپنی کے سنجے چندرا، سوان ٹیلی کام کے ونود گوینکا اور انیل امبانی کی اے ڈی اے جی کمپنی کے تین سینیئر افسر شامل ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ ضمانت کی خبر سے بازار حصص میں ان کمپنیوں کے شیئرز میں تیزی آئي ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امکان ہے کہ بدھ کی شام تک یہ افراد دلی کی تہاڑ جیل سے باہرآجائیں گے۔

اس معاملے کے دیگر اہم ملزم سابق ٹیلی مواصلات کے مرکزی وزیر اے راجہ، رکن پارلیمان کنی موڑی، کلائی نار ٹی وی کے سربراہ شرد کمار، سوان ٹیلی کام کے پرموٹر شاہد بلوا، مواصلات کے سابق مرکزی وزیر اے راجہ کے سابق سیکرٹری آر کے چندولیہ، آصف بلوا، راجیو اگروال اور فلم پروڈیوسر کریم مورانی کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں اور امکان ہے کہ یہ لوگ بھی دلی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ جائیں گے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ان افراد کو بھی ضمانت ملنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں کیونکہ کم و بیش سبھی ملزمان کو ایک ہی طرح کے الزامات کا سامنا ہے۔

اس سے پہلےگزشتہ روز ایک اہم فیصلے میں دلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق پٹیالہ کی عدالت نے ٹو جی بدعنوانی کے معاملے میں تمام مقدمات کی سماعت کو تہاڑ جیل میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Image caption سی بی آئی نےضمانت کی مخالفت نہیں کی تھی تب بھی ذیلی عدالت نےکنی موڑی کو ضمانت نہیں دی تھی

چونکہ اس مقدمے کے تمام ملزمان تہاڑ جیل میں بند ہیں اس لیے سکیورٹی کی وجوہات کے سبب مقدمات کی سماعت جیل کے احاطے میں ہی کرانے کا فیصلہ کیا گيا تھا۔

لیکن سابق مرکزی وزیر مواصلات اور رکن پارلیمان کنی موڑی سمیت کئی ملزمان نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اے راجہ نے بطور احتجاج عدالت میں کہا تھا ’میں نہیں سمجھ پارہا ہوں کہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے۔‘

ملزمان کے وکلاء نے بھی اس فیصلے پر نکتہ چینی کی تھی اور اس فیصلے کو بڑی عدالت میں چیلنچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹو جی سپیکٹرم معاملے کی تفتیش کے بعد ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس عمل کے بعد عام طور پر ملزمان کو ضمانت مل جاتی ہے۔

ان تمام پر دفعہ 409 کے تحت مجرمانہ غفلت اور مجرمانہ سازش کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان دفعات کے تحت مجرم پائے جانے پر عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں