شرد پوار کے منہ پر طمانچہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شرد پوار پر حملے کی سیاسی جماعتوں نے مذمت کی ہے

بھارت کے وزیرِ زراعت اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے صدر شرد پوار پر ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بدعنوانی سے نالاں ایک شخص نے حملہ کر دیا اور انہیں تھپڑ مار دیا ہے۔

حملہ آور نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نےگزشتہ ہفتے سابق وزیر سکھ رام پر بھی حملہ کیا تھا جنہیں رشوت لینے کے الزام میں ایک عدالت نے پانچ برس قید کی سزا دی ہے۔

مسٹر شرد پوار پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ دلی میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد باہر نکل رہے تھے۔

مسٹر پوار کچھ صحافیوں سے بات کر رہے تھے کہ حملہ آور اچانک ان کی طرف بڑھا اور انہیں ایک تھپڑ مار دیا۔ حملہ آور نے تھپڑ مارنے کے بعد چاقو نکال لیا تھا لیکن تب تک سکیورٹی اہلکاروں نے اسے قابو میں کر لیا تھا۔

حملہ آور نے شرد پوارکو تھپڑ مارتے ہوئے کہا کہ وہ مہنگائی اور بدعنوانی کے لیے شرد پوار سے ناراض تھا۔ ’مہنگائی اور بدعنوانی سے سب تنگ آچکے ہیں اورعام آدمی کی کوئی سننے والا نہیں ہے۔‘

حملہ آور کا نام ہرویندر سنگھ بتایا گیا ہے اور وہ ایک ٹیمپو ڈرائیور ہے۔

مسٹر پوار نے بتایا کہ وہ پوری طرح محفوظ ہیں اور انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی ہے۔ پولیس نے ہرویندر سنگھ کوگرفتار کر لیا ہے اور وہ اس پہلو کی تفتیش کر رہی ہے کہ وہ مسٹر پوار کے نزدیک کس طرح پہنچا۔

حکمراں کانگریس پارٹی نے اس واقعے کی مذمت کی ہے لیکن ساتھ ہی اس کے لیے حزب اختلاف کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ پارٹی کے سینیئر رہمناء راشد علوی نے کہا کہ بی جے پی لوگوں کو تشد د کے لیے بھڑکا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’بی جے پی کے ایک سنیئر رہنما نے کل کہا تھاکہ مہنگائی اتنی بڑھتی جارہی ہے کہ لوگ تشدد پر اتر آئیں گے۔ یہ بیان دے کر دراصل انہوں نے لوگوں کو تشدد کرنے کے لیے بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔‘

بی جے پی نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے جمہوریت میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے لیکن پارٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’حکومت بے لگام مہنگائی کی قیمت ادا کر رہی ہے۔‘

بدعنوانی کے خلاف مہم کے علمبردار انا ہزارے وزیر زراعت شرد پوار کو ایک بدعنوان وزیر کہتے رہے ہیں اور ان کے سخت خلاف رہے ہیں۔ جب انہیں یہ بتایا گیا کہ کسی نے مسٹر پوار کو ایک تھپڑ مارا ہے تو ان کا رد عمل تھا ’ بس ایک ہی تھپڑ مارا ؟‘

پارلیمنٹ میں آج بے قابو مہنگائی پر بحث ہونے والی تھی لیکن ہنگامہ آرائی کے سبب ایوان کی کاروائی مسلسل تیسرے روز بھی ملتوی کرنی پڑی۔

اسی بارے میں