کشمیر میں انتخابات ایک ’نان ایشو‘؟

سید صلاح الدین تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ کئی برس سے بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیمیں اتنخابات کا بائیکاٹ کرتی رہی ہیں

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم کشمیری رہنما سید صلاح الدین نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں پنچایتی اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات کو ایک ’نان ایشو‘ قرار دیا ہے۔

یہ بیان صلاح الدین کے پسندیدہ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی پالیسی سے مختلف ہے۔ گزشتہ بائیس برس سے علی گیلانی ہر طرح کے انتخابات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کے بائیکاٹ کی کال دیتے رہے ہیں۔

کشمیر میں گزشتہ سولہ برس کے دوران کم از کم چھ بار بھارتی پارلیمان یا مقامی اسمبلی کے لیے انتخابات ہوئے ہیں۔

اُنیس سو چھیانوے میں جب دس سالہ کشیدگی کے بعد یہاں انتخابات کا اعلان ہوا تو مسلح قیادت اور حریت کانفرنس نے مشترکہ مؤقف اختیار کر کے ان انتخابات کے بائیکاٹ کااعلان کیا تھا اور بائیکاٹ کی یہ کال بہت موثر بھی ثابت ہوئی تھی۔

اس کے بعد کشمیر میں بھارتی پارلیمان اور مقامی اسمبلی کے لیے نصف درجن سے زائد مرتبہ الیکشن ہوئے اور پچھلے نو سال کے دوارن علیحدگی پسند انتخابات کے بائیکاٹ کی کال بھی دیتے رہے، لیکن ووٹنگ کی شرح کبھی بھی ساٹھ فیصد سے کم نہیں تھی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ کئی علیحدگی پسند حلقوں نے انتخابات اور مسئلہ کشمیر کو ’ڈی لِنک‘ کرنے کا نظریہ بھی عام کیا۔

اس کا براہ راست فائدہ ہند نوازگروپوں کو ہوا کیونکہ ہندمخالف جذبات کو دبانے کے لیے جو وسیع آپریشن حکومت ہند نے شروع کیا تھا، الیکشن کو اسی کا حصہ سمجھا جاتا تھااور الیکشن لڑنے والوں کو سماجی حلقوں میں اعتباریت نہیں تھی۔

بعد میں ہندنوازوں نے اپنے سیاسی ایجنڈے کو ’بجلی، پانی، سڑک‘ تک ہی محدود کر دیا۔

وزیراعلٰی کی کرسی سنبھالتے ہی عمرعبداللہ نے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی موجودگی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ کشمیریوں نے جس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے بندوق اُٹھائی تھی وہ سرمایہ کاری، تعمیر و ترقی یا نوکریوں سے حل نہیں ہوسکتا۔

الیکشن کے سوال پر تو سّید علی گیلانی کا مؤقف آج بھی بائیکاٹ پر ہی مشتمل ہے لیکن بیانات سے لگتا ہے کہ عسکری رہنما سیدصلاح الدین اور دوسرے علیحدگی پسند رہنماؤں کا جھکاؤ ’ڈی لِنک‘ نظریے کی جانب ہے۔

میر واعظ عمر کہتے ہیں کہ ’اگر بھارت یہ کہتا ہے کہ الیکشن ہی مسئلہ کشمیر کا حل ہے تو ہم یہ الیکشن کیسے لڑسکتے ہیں۔ البتہ اگر یہ لوگ کہیں کہ صرف قیادت کا تعین کرنے کے لیے انتخابات ہونگے، تو پھر پاکستان اور بھارت کے زیرانتظام دونوں خطوں میں الیکشن کروائے جائیں‘۔

قانون کے پروفیسر اور سرکردہ مبصر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کا کہنا ہے کہ علیٰحدگی پسندوں کے درمیان الیکشن کے سوال پر اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ آج آپ صلاح الدین اور سید گیلانی کے اختلاف کی بات کرتے ہیں۔ یہ دونوں رہنما تو ماضی میں الیکشن لڑچکے ہیں‘۔

شوکت حُسین کے مطابق سید گیلانی نے خود انڈیا ٹوڈے کانکلیو میں کہا تھا کہ بھارت کی تحریک آزادی کے دوران برطانوی حکومت میں بھارت کی تحریک کے سربرآوردہ لوگوں نے انتخابات لڑے۔

کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ اقتدار کے ساتھ وابستہ ہونا کشمیر میں محض مادی مفاد کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ سلامتی کا عنصر بھی جُڑا ہے۔ اسی لیے حریت کے سامنے الیکشن پالیسی طے کرنا اگلے سال کا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

اسی بارے میں