زخمی روحوں اور سہمے ہوئے جذبوں کا کشمیر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی چوکیاں تو کم ہوگئی ہیں لیکن یہ علاقہ آج بھی دنیا کا سب سے زیادہ فوج زدہ علاقہ ہے۔

ایک صحافی کے طور پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر جانے کا پہلا موقع 1996 میں ملا۔ اس وقت علیحدگی کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ مختلف شدت پسند تنطیمیں پوری طرح متحرک تھیں۔ کشمیر کے چپے چپے پر بھارتی سکیورٹی فورسز کا پہرہ تھا۔

دارالحکومت سری نگر کے سبھی ہوٹل بند ہو چکے تھے۔ پورے شہر میں بس ایک ہی ہوٹل کھلا تھا۔ باہر سے آنے والے صجافی اسی ہوٹل میں ٹھہرا کرتے تھے۔ رات میں اعلانیہ یا غیر اعلانیہ ’شوٹ ایٹ سائٹ‘ کے احکامات پر عمل ہو رہا تھا۔ دن میں سڑکوں پر بہت کم لو گ دکھائی دیتے۔ بیشتر دوکانیں بند ہوتیں اور ‎سہ پہر چار بجتے بجتے سڑکیں ویران ہو جاتیں اور پوری فضا پر ایک بھیانک سا سناٹا طاری ہو جاتا۔ ہر طرف خوف کی حکمرانی ہوتی۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے ہوائیں محصور ہوں اور لمحے ساکت ہوگئے ہوں اور جذبات پر پہرے ہوں۔

سری نگر میں ہر جگہ ہر چوراہے اور ہر موڑ پر سکیورٹی فورسز کی تلاشی چوکیاں ہوتی تھیں۔ سکیورٹی کے اہلکار طرح طرح کی گاڑیوں میں پورے شہر میں گشت کیا کرتے اور راستے میں لوگوں کو روک کر تلاشیاں لیا کرتے تھے۔ کئی بار میری بھی تلاشی لی گئی۔ بعض دفعہ تلاشی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کا رویہ اتنا خراب ہوتا کہ سخت جھنجھلاہٹ ہوتی تھی۔

اس طرح کی تلاشی کا یہ میرا پہلا اتفاق تھا۔ ایک جمہوری ملک کے شہری کے طور پر تلاشی کا یہ عمل میرے لیے بہت تکلیف دہ اور ہتک آمیز محسوس ہوتا۔ لیکن شورش زدہ وادی میں کشمیریوں کو اس مرحلے سے کئی کئی بار گزرنا پڑتا۔ ان کے خاموش چہروں سے تکلیف عیاں ہوتی تھی۔

سری نگر سے دوسرے قصبوں اور گاؤں میں جانا ایک صبر آزما عمل ہوا کرتا تھا۔ راستے ویران ہوا کرتے تھے۔ سڑکوں پر صرف فوج کی گاڑیاں دکھائی دیتیں اور اہم موڑوں پر بنکر ہوتے اور فوج کی ناکہ بندی ہوا کرتی۔

کشمیر میں علیحدگي کی تحریک کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس تحریک میں ساٹھ ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔گزرے ہوئے بائیس برسوں میں کشمیر نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ ان گزرے ہوئے برسوں میں شاید ہی وہاں کوئی ایسا ہوگا جس کی زندگی پر ان حالات کا براہ راست اثر نہ پڑا ہو۔

ایک صحافی کے طور پر ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ کشمیری اگر بھارت سے علیحدگی چاہتے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے۔ کیا ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آنے سے یہاں کے حالات بہتر ہو جائیں گے؟ کیا کشمیر کی نئی نسل دنیا کے دوسرے تمام نوجوانوں کی طرح اپنے بہتر اقتصادی مستقبل پر اپنی توجہ مرکوز کرے گی ؟ بہت سے سوالوں کے جواب فوراً مل جاتے اور کچھ کے جواب وقت گزرنے کے ساتھ ملتے۔

کچھ عرصے سے کشمیر میں زندگی قدرے پر سکون ہے۔ پرتشدد تحریک تقریباً ختم ہو چکی ہے۔گزشتہ دنوں ایک عرصے کے بعد مجھے شورش زدہ وادی کے اندورنی علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ برسوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب سینکڑوں کلومیٹرکی مسافت میں مجھے کہیں روکا نہیں گیا۔ میری کہیں تلاشی نہیں ہوئی اور کوئی مجھ سے یہ پوچھنے نہیں آیا کہ مجھے کہاں جانا ہے اور کس سے ملنا ہے۔

کافی عرصے بعد فضا کچھ کھلی کھلی سی لگی۔ سڑکوں پر ‎سکیورٹی فورسز کے اہلکار نظر نہیں آئے۔ شہروں، قصبوں اور گاؤں میں ان کی موجودگی پہلے سے بہت کم ہے۔ بیشتر بنکر اور چوکیاں ہٹائی جا چکی ہیں۔ لیکن اب بھی یہ دنیا کا سب سے زیادہ فوج زدہ علاقہ ہے۔

لیکن اگر کشمیر کے ماضی پر نظر ڈالیں تو سطح پر پھیلی ہوئی یہ خاموشی کسی سراب کی طرح نظر آتی ہے ۔ تقریباً ڈیڑھ برس قبل اسی طرح کے پر سکون ماحول میں اچانک وادی احتجاج اور مظاہروں سےگونج اٹھی تھی۔ سو سے زیادہ نو عمر احتجاجی ان مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

گزرے ہوئے پرتشدد دنوں کے مقابلے میں آج یقیناً ایک ٹھہراؤ سا ہے۔ اس ٹھہراؤ کے پیچھے ہزاروں زخمی روحیں ہیں، دبی ہوئی سسکیاں ہیں اور سہمے ہوئے جذبات ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ پوری وادی ایک غیر یقینی کی فضا میں معلق ہے۔

کشمیر میں لوگوں کی زندگی کے بیشتر پہلو حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ یہاں شخصی آزادی بنیادی حق نہیں بلکہ ایک سرکاری رعایت ہے۔ انٹر نیٹ، ٹیلیفون اور ایس ایم ایس جیسے بیغامات اور خیالات کی رسائی کے تمام ذرائع نگرانی میں ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کا ایک وسیع جال پھیلا ہوا ہے اور جھوٹے سے چھوٹے مظاہرے کی خبر بھی پل میں انتظامیہ کو ہو جاتی ہے۔

کشمیر ایک ایسی منزل پر ہے جہاں خود کشمیریوں کو بھی نہیں پتہ کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ لوگ تشدد سے تنگ آ چکے ہیں۔ لیکن انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ نئی نسل بے بسی کے عالم اور غیر یقینی کی فضا میں کہیں دوبارہ تشدد کی طرف چل پڑے ۔

زخمی روحوں اور سہمے ہوئے جذبوں کی اس وادی کے درد کو محسوس کرنے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔