کرن بیدی کے خلاف مقدمہ درج

کرن بیدی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کرن بیدی اننا ہزارے کی ٹیم کی اہم ممبر ہیں

دلی پولیس نے اتوار کے روز انا ہزارے کی ٹیم کے اہم رکن اور سابق پولیس افسر کرن بیدی کے خلاف معاملہ درج کرلیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی غیر سرکاری تنظیم کے لیے مخصوص فنڈ کا غلط استمعال کیا تھا۔

کرائم برانچ کے سینئر افسر اشوک چندر نے بتایا ہے کہ کرن بیدی پر دفعہ 420، 406 اور 120 کے تحت دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔

عدالت نے دیوندر سنگھ نامی ایک وکیل کی مفاد عامہ کی عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئےکرن بیدی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

سوشل نیٹورکنگ کی سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے’مجھے اطلاع کی گئی ہے کہ میرے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ یہ کوئی حیران کرنے والی بات نہیں ہے۔ یہ میرے کام کرنے کے جذبے کو اور مضبوط کرتے ہیں۔‘

کرن بیدی پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسی تنظیموں سے آمد و رفت کا کرایہ خرچ سے زیادہ وصول کیا ہے جو انہیں اپنے سیمیناروں میں بلاتی رہی ہیں۔

اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کرن بیدی نے اس بات سے تو انکار نہیں کیا تھا کہ اضافی پیسے وصول کیےگئے ہیں تاہم صفائی یہ پیش کی کہ ایسا ایک مقصد کے تحت کیا گيا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اکانومی کلاس میں سفر کر کے بزنس کلاس کا کرایہ وصول کیا ہے لیکن وہ اضافی رقم فلاحی تنظیم کی مدد کے مقصد سے لیا گيا ہے۔

کرن بیدی کے متعلق بدعنوانی کے ان الزامات کو انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے تفصیل سے شائع کیا تھا اور ثبوت کے طور پر بورڈنگ پاس، بلز ریکارڈز، چیکز اور دیگر رسیدیں بھی شائع کی ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ کرن بیدی نے سستے ٹکٹ خریدنے کے لیے کئی بار اپنے میڈلز کا استعمال کیا اور بعد میں بل اس کی اصلی قیمت پر وصول کیا ہے۔

بھارتی حکومت کے ایک قانون کے مطابق جن افراد کو بہادری کے میڈلز سے نوازہ گیا ہے انہیں سرکاری ایئر لائن ایئر انڈیا میں پچھہتر فیصد کی رعایت کا حق ہے۔ کرن بیدی نے اسی کے تحت سستے ٹکٹ خریدے تھے۔

کرن بیدی کو سنہ انیس سو اناسی میں بہادری کے لیے صدر کی جانب سے ’ویرتا میڈل‘ سے نوازہ گیا تھا۔

کرن بیدی کی تنظیم کانام ’انڈین ویژن فاؤنڈیشن‘ ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اضافی رقم اسی کے لیے لیتی آئی ہیں۔

اسی بارے میں