ٹیم انّا پھرحکومت مخالف مہم کے لیے کوشاں

انّا ہزارے
Image caption انّا ہزارے بدعنوانی کے خلاف تحریک چلاتے رہے ہیں

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے سماجی کارکن انّا ہزارے کی ٹیم جن لوک پال بل کے لیے پھر سے احتجاجی مظاہروں کی تیار ی کر رہی ہے۔

انّا ہزارے اور ان کے ساتھی پارلیمان کے سرمائی اجلاس میں بدعنوانی کی روک تھام کے لیے مضبوط لوک پال بل کی منظوری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ٹیم کا کہنا ہے کہ اگر جن لوک پال بل اس رواں اجلاس میں منظور نہ کیا گیا تو ستائس دسمبر سے وہ دوباہ رام لیلا گراؤنڈ پر اپنی احتجاجی مہم شروع کریں گے۔

لیکن اس طویل احتجاج سے پہلے حکومت پر دباؤ بنانے کے لیےگیارہ دسمبر کو پارلیمان کے پاس والے علاقے جنتر منتر پر ایک روز کی اجتماعی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا گيا ہے۔

انّا ہزارے کی ٹیم کے ایک اہم رکن منیش سیوسودیہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ستائس دسمبر سے ان کی جو احتجاجی مہم شروع ہوگی اس کا مقصد جن لوک پال بل کے حوالے سے ملک بھر میں پھر سے ماحول بنانا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اسی کے تحت گیارہ دسمبر کو بھی ایک پروگرام رکھا گیا ہے جس کے طریقہ کار کے متعلق بات چیت چل رہی ہے۔‘

اس کے لیے انہیں ایم سی ڈی یعنی دلی مینوسپل کارپوریشن اور پولیس سے اجازت لینی ہوگي تبھی وہ دلی میں اپنا احتجاج کر سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایم سی ڈی نے کہا ہے کہ اگر دلی کی پولیس انہیں نو اوبجیکشن سرٹیفکٹ جاری کرتی ہے تو وہ بھی ریلی کے لیے اجازت دے دیں گے۔

انا ہزارے نے اس برس بدعنوانی کے خلاف پہلے اپریل اور پھر اگست کے مہینے میں بھوک ہڑتال کی تھی۔ ان کی تحریک کو ملک میں بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہوئی تھی اور حکومت کو آخرکار ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرنا پڑا تھا کہ حکومتی حلقوں میں بدعنوانی کی روک تھام کے لیے ایک سخت قانون وضع کیا جائے۔

انا ہزارے کی ٹیم کا کہنا ہے حکومت نے جن لوک پل بل کو منظور کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اسے اسی رواں اجلاس میں منظور کیا جا نا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ پھر اپنی مہم شروع کریں گے۔

حکومت اس بل پر بحث کے لیے راضی ہے اور اس اجلاس میں وہ بل زیر بحث آنے والا ہے لیکن ابھی تک یہ پتہ نہیں ہے کہ اسے کب منظور کیا جائیگا۔

اسی بارے میں