سپر بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کی مخالفت

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption کابینہ کے فیصلے کے مطابق وال مارٹ جیسے برانڈ بھارت میں کھل سکیں گے

بھارت میں بیشتر سیاسی جماعتیں سپر مارکیٹ میں بین الاقوامی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دینے کے حکومت کے فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں۔

پیر کے روز پارلیمان میں اسی موضوع پر بحث کے لیے زبردست ہنگامہ آرائی کے بعد پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس ملتوی کرنے پڑے ہیں۔

پہلے سپیکر میرا کمار نے اجلاس دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کیا تھا لیکن جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن جماعتوں نے بیرونی کمپنیوں کو سپر بازار میں سرمایہ کاری کی اجازت دینے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔

ہنگامہ آرائی کے سبب دونوں ایوانوں کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ سرمائی اجلاس کا یہ دوسرا ہفتہ ہے لیکن حکمراں جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اختلافات کے سبب اب تک کسی بھی موضوع پر مناسب بحث نہیں ہو سکی ہے۔

بھارتی کابینہ نےگزشتہ ہفتہ ایک اہم فیصلے کے تحت بیرونی کمپنیوں کو ملک میں اپنے سٹورز کھولنے اور سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی تھی۔

لیکن حکومت کی بعض اتحادی جماعتوں سمیت بیشتر جماعتیں اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں اور اس پر انہوں نے پارلیمان میں بحث کا مطالبہ کیا ہے۔

Image caption ملٹی برانڈ میں اکاون فیصد غیرملکی سرمایہ کاری کی اجازت دی گئي ہے

مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے ریٹیل بازار میں تجارت کرنے والے وہ لاکھوں گھریلو تاجر بے روزگار ہوجائیں گے جن کی روزی روٹی چھوٹی چھوٹی دکانوں سے چلتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی کمپنیاں پہلے مارکیٹ میں آتی ہیں، سستا سامان فروخت کرتی ہیں لیکن جب ان کی اجارہ داری ہوجاتی ہے تو پھر وہ اپنی من مانی کرتی ہیں۔

لیکن حکومت کا خیال ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دینے سے ترسیل کی صورتحال بہتر ہوگی اور مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ملک میں کارپوریٹ دنیا کی طرف سے بھی حکومت پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ اس تجویز کو منظوری دیدی جائے۔

کابینہ نے’ملٹی برانڈ ریٹیل‘ (سپر مارکیٹس) میں اکیاون فیصد تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دے دی ہے جس کے نتیجے میں وال مارٹ اور ٹیسکو جیسی بڑی بین الاقوامی کمپنیاں بھارت میں اپنے سٹور کھول سکیں گی۔

جبکہ ایک ہی برانڈ کی ریٹیل مارکیٹ میں پہلے سے موجود اکیاون فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت کو بڑھا کر سو فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گيا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ حکومت حزب اختلاف کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے بعض شرائط عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔ مثال کے طور پر سپر مارکٹس صرف ان شہروں میں کھولی جاسکیں گی جن کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے اور زرعی پیداوار پر حسبِ معمول حکومت کا کنٹرول رہےگا۔

اسی بارے میں