جعلی پولیس مقابلے میں سپریم کورٹ کاحکم

سہراب الدین، کوثر بی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سہراب الدین اور ان کی بیوی کوثو بی کو فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا گیا تھا

بھارت کی سپریم کورٹ نےگجرات میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ سہراب الدین جعلی پولیس مقابلے کے مقدمے کے دو اہم ملزمان کے درمیان ٹیلیفون پر رابطے کے ریکارڈ کی سی ڈی ایک ہفتے کے اندر عدالت میں پیش کرے۔

عدالت نے سہراب الدین شیخ مقدمے کی سماعت کے دوران گجرات حکومت کے وکیل سے کہا کہ’ مقدمے کی سماعت دس روز سے جاری ہے اور ابھی تک آپ کے پاس سی ڈی کے بارے میں مکمل معلومات نہیں ہے، یہ بہت سنگین اور افسوسناک بات ہے۔‘

اس کیس میں ریاست کے سابق وزیر داخلہ اور نریندر مودی کے قریبی معتمد امت شاہ اور سابق اعلی پولیس اہلکار ڈی جی ونزارا اصل ملزم ہیں۔ مسٹر ونزارا کئی دیگر سرکردہ افسران کےساتھ جیل میں ہیں جبکہ مسٹر شاہ کو ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں لیکن ان کےگجرات میں داخل ہونے پر پابندی ہے۔

سپریم کورٹ سی بی آئی کی ایک پٹیشن کی سماعت کر رہی ہے جس میں اس نے عدالت سے مسٹر شاہ کی ضمانت منسوخ کرنے اور ان کے خلاف مقدمے کی سماعت گجرات سے باہر منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔

اس سے پہلے احمدآباد میں گجرات کی ہائی کورٹ نے جمعرات کی صبح کہا تھا کہ عشرت جہاں جعلی پولیس مقابلے کی تفتیش کے معاملے میں گجرات کی پولیس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اس کیس کی تفتیش بھی سی بی آئی کے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ دونوں احکامات وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے لیے بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ لیکن سپریم کورٹ نے سی بی آئی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش میں مرکزی ادارے نے پوری مستعدی سے کام نہیں کیا ہے۔

سہراب الدین شیخ کا مبینہ طور پر جرائم کی دنیا سے تعلق تھا اور انہیں نومبر دو ہزار پانچ میں گجرات پولیس نے ہلاک کر دیا تھا۔ اسی وقت سے ان کی اہلیہ کوثر بی بھی لاپتہ ہیں اور الزام ہے کہ پولیس نے بعد میں انہیں بھی ختم کر دیا تھا۔

پہلے پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ سہراب الدین لشکر طیبہ کے رکن تھے۔ لیکن سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ان کے قتل کا حکم امت شاہ نے دیا تھا اور اس کیس کا تعلق بلیک میل کے ایک ریکٹ سے تھا جس میں امت شاہ اور سہراب الدین دونوں ملوث تھے۔

اسی بارے میں