ماؤ نوازوں کی ہڑتال، سرکاری املاک پر حملے

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جھڑپ فرضی نہیں تھی اور کشن جی مقابلے میں مارے گئے تھے

بھارت میں ماؤنواز باغیوں نے اپنے ایک اہم رہنماء کشن جی کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال کے دواران سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔

دو روزہ بھارت بند کال کا آغاز اتوار کو ہوا تھا۔ اس دوران باغیوں نے جھارکھنڈ میں ریلوے لائن کو دھماکوں سے اڑا دیا۔

ریاست کے دو اضلاع بکارو اور لیتیہار کے دو مختلف مقامات پر ریل کی پٹریوں کو دھماکے سے اڑایا گیا جس سے ریل سروسز متاثر ہوئی ہیں۔

ریاست بہار کے ضلع اورنگ آباد میں بھی موبائل فون کے ایک ٹاور کو آک لگا دی گئی ہے۔ سنیچر کے روز ماؤنوازوں نے انتقامی کارروائی کے تحت رکن پارلیمان اِندر سنگھ نام دھاری کے ایک قافلے پر حملہ کیا تھا جس میں کئی پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جھارکھنڈ اور بہار سمیت ماؤ نوازوں کے زیرِ اثر مختلف علاقوں میں ٹریفک کم ہے اور خاص طور پر مال بردار ٹرک خوف کے سبب بالکل نہیں چل رہے ہیں۔

حکام کے مطابق جن علاقوں میں ماؤنواز کارروائیاں کرتے رہے ہیں ان مقامات پر تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں لیکن عام طور پر اس کا زیادہ اثر نہیں ہے۔

گزشتہ ہفتے سکیورٹی فورسز نے ریاست مغربی بنگال کے جنگل میں مبینہ طور پر ایک جھڑپ کے دوران ماؤ نواز رہنماء کشن جی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشن جی کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا ہے

لیکن ماؤنوازوں کا کہنا ہے کہ کشن جی کو پہلےگرفتار کیا گيا تھا اور بعد میں انہیں ٹارچر کر کے ہلاک کیا گيا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جھڑپ فرضی نہیں تھی اور کشن جی مقابلے میں مارے گئے تھے۔

اس دوران رکن پارلیمان اندر سنگھ نام دھاری کے قافلے پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔ اس میں دس پولیس اہلکار اور ایک لڑکا شامل ہے۔

نام دھاری اس حملے میں بال بال بچ گئے تھے لیکن سکیورٹی کے لیے ان کے قافلے میں شامل نو پولیس اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔ دو اہلکاروں کا ہسپتال میں علاج ہو رہا تھا جن میں سے ایک ہلاک ہوگیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد ماؤنواز باغیوں نے پولیس کی سب ہی رائفلیں، تقریباً ایک ہزار گولیاں اور وائر لیس سیٹس اپنے ساتھ لےگئے۔

اس وقت ملک کی کئی ریاستوں میں ماؤنواز باغیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔

بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ملک کی داخلی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ ماؤنواز باغیوں سے ہے اور وزیر داخلہ پی چدمبرم نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے مقابلے میں ماؤنواز باغیوں کے حملوں میں کہیں زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں