عاشورہ: کشمیر میں ناکہ بندی، درجنوں گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارتی زیرانتظام کشمیر کے تجارتی مرکز لال چوک میں منگل وار کو تسیرے روز بھی کرفیو جیسا ماحول رہا کیوں کہ یوم عاشورہ پر سرکاری پابندیوں کو نافذ کرنے کے لئے پولیس نے لال چوک کی ناکہ بندی کردی تھی۔ بائیس سال قبل مسلح تحریک شروع ہوتے ہی حکام نے عیدِ میلاد اور محرم کے جلوسوں پر پابندی عائد کردی تھی جو اب بھی جاری ہے۔

پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جب عزاداروں کے ایک جلوس نے دوپہر کو لال چوک کی طرف پیش قدمی کی تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا۔ عزاداروں نے مزاحمت کی جس کے بعد پولیس نے شعیہ رہنما نثارحسین راتھر سمیت درجنوں عزاداروں کو حراست میں لیا۔

تاہم پرانے سرینگر کے بعض علاقوں میں عزاداروں کے کئی جلوس نکالے گئے جن کی قیادت مولوی افتخار انصاری اور دوسرے رہنماؤں نے کی۔ ان رہنماؤں نے مذہبی رسوم خاص طور پر عزاداری کے جلوس پر پابندی عائد کرنے کے سرکاری فیصلے کی مذمت کی اور اس حرکت کو بھارتی جمہوریت پر داغ سے تعبیر سے کیا۔

شعیہ برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں علیٰحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ نے شیعہ رہنماؤں کے ہمراہ جلوس میں شرکت کی۔ طویل عرصہ سے سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ اور دوسرے علیٰحدگی پسندوں کو گھروں میں نظربند رکھا گیا ہے۔ شبیر احمد شاہ نے بی بی سی کے ریاض مسرور کو بتایا کہ حکومت شعیہ سنی کشیدگی کا بہانہ کرکے لوگوں کے مذہبی حقوق پامال کررہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امن و قانون برقرار رکھنے کے لئے یہ پابندیاں ناگذیر تھیں۔ نو اور دس محرم یعنی یوم عاشورہ پر بھی ایسی ہی پابندیوں کا امکان ہے کیونکہ پولیس کو حکومت نے ہدایات دی ہے کہ بڑے بازاروں اور شہری مراکز سے جلوس نکالنے کی اجازت نہ دی جائے ۔

قابل ذکر ہے یوم عاشورہ کے جلوس کو شہر کی بڑی شاہراہوں پر جانے سے روکنے کے لئے پولیس کشمیر کے تجارتی مرکز لالچوک اور گردونواح کے علاقوں کو بند کیا گیا تھا۔ ان پابندیوں کی وجہ سے شہدائے کربلا کی یاد میں پہلے سے طے شدہ مذہبی تقریبات متاثر ہوئیں اور عام زندگی بھی درہم برہم ہوگئی۔

اسی بارے میں