بھارت کے پہلے جوہری دھماکے کی وجوہات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت نے جوہری بم کے تجربات اسی پوکھرن کے مقام پر کیے تھے

بھارت نے سنہ انیس سو چوہتر میں اپنا پہلا آزمائشی جوہری دھماکہ بظاہر اس وجہ سے کیا تھا کہ اسے پاکستان کی جانب امریکہ کے جھکاؤ اور ستر کے عشرے میں چین سےتعلقات استوار کرنے کی امریکی کوششوں پر تشویش تھی۔

یہ دعویٰ امریکی وزرات خارجہ کی جانب سے حال ہی میں منظر عام پر لائی جانے والی ایک خفیہ دستاویز میں کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے واشنگٹن سے خبر دی ہے کہ چودہ جنوری انیس سو بہتر کو امریکی وزرات خارجہ نے ایک خفیہ نوٹ میں یہ تسلیم کیا تھا کہ بھارت کی جانب سے جوہری راستہ اختیار کیے جانے میں امریکی پالیسی کا بھی کردار تھا۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’اس بات میں کم ہی شبہہ ہے کہ جب اس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن نے چین کے دورے کا اعلان کیا تو بھارت کو بھی مجموعی صورتحال کو نئے تناظر میں دیکھنا پڑا۔ رچرڈ نکسن پاکستان کے زیادہ قریب تھے اور ان کے دور اقتدار میں بھارت سے امریکہ کے تعلقات مشکلات کا شکار رہے تھے۔‘

اس دور کی خفیہ دستاویزات اب عام کی گئی ہیں جن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انیس سو اکہتر کے اوائل تک تمام شواہد سے یہ اشارہ ملتا تھا کہ بھارت نے جوہری بم بنانے یا اس کی آزمائش کرنے کا فیصلہ غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔

اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ’صدر نکسن کے چین جانے کے اعلان کے بعد اگست میں بھارتی کابینہ نے اپنی جوہری پالیسی پر نظرثانی کی۔ اس بات میں کوئی شبہہ نہیں کہ چین کے مجوزہ دورے کا اعلان بھارت کی سکیورٹی اور جوہری پالیسی پر اثرانداز ہوا ہے۔‘

نوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آزمائشی دھماکہ کرنےکے فیصلے کا تعلق بھارت اور پاکستان کے روابط سے بھی ہو سکتا ہے جو اس وقت کافی کشیدگی کا شکار تھے۔

’ہو سکتا ہے کہ بھارت اس نتیجے پر پہنچا ہو کہ جوہری آزمائشی دھماکہ کرنے سے پاکستان کو اس کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کا اندازہ ہوگا۔ اگرچہ (بھارت اور پاکستان کے درمیان اکہتر کی جنگ کے بعد) فوری مسئلہ حل ہوگیا ہے لیکن بھارت کے خیال میں شاید آزمائشی دھماکہ کافی فائدہ مند ثابت ہوگا۔‘

’بھارت کو شاید یہ امید بھی ہوگی کہ کھلے طور پر اپنی جوہری طاقت کا مظاہرہ کرنے سے پاکستان انتقامی کارروائی کے بارے میں نہیں سوچے گا۔‘

اس کے چھ مہینے بعد اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہینری کسنجر نے مسٹر نکسن کو ایک خط لکھ کر بتایا تھا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بھارت نے جوہری بم بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ’اس آزمائشی دھماکے سے جنوب ایشیا کے تئیں روس اور چین کا نظریہ بدل سکتا ہے اور پاکستان اپنی حفاظت کی ضمانت کے لیے دباؤ بڑھا سکتا ہے۔‘

بھارت نے اٹھارہ مئی انیس سو چوہتر کو راجستھان کے پوکھرن علاقے میں آزمائشی دھماکہ کر کے اپنی جوہری حیثیت کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں