ریٹیل بازار پر حکومتی فیصلہ معطل

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption کابینہ کے فیصلے کے مطابق وال مارٹ جیسے برانڈ بھارت میں کھل سکیں گے

بھارت کے ریٹیل بازار میں بیرونی سرمایہ کاری کے مسئلے پر کُل جماعتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے پر اتفاقِ رائے سے عمل کیا جائے گا۔

اس فیصلے کے بعد پارلیمان کے اجلاس کی معمول کی کارروائی بحال کرنے پر اتفاق ہوا اور بدھ کے روز پہلی بار باقاعدہ سرمائی اجلاس شروع ہوا۔

حکومت نے نومبر کے آخر میں وال مارٹ اور ٹیسکو جیسی بڑی کمپنیوں کی خوردہ کاروبار میں شرکت کی راہ ہموار کرتے ہوئے اس شعبے میں اکیاون فیصد براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دی تھی۔

لیکن اس فیصلے سے کانگریس کی اتحادی جماعتیں بھی ناراض تھیں اور وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر پارلیمان کی کارروائی چلنے نہیں دے رہی تھیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت اپنا فیصلہ واپس لے اور اس مسئلہ پر پارلیمان میں بحث کی جائے۔

بدھ کی صبح کل جماعتی اجلاس کے بعد وزیرخزانہ پرنب مکھرجی نے لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ریٹیل مارکیٹ میں ’اکیاون فیصد بیرونی سرمایہ کاری کے متعلق کابینہ نے جو فیصلہ کیا تھا اسے اس وقت تک کے لیے معطل کر دیا گيا ہے جب تک اس پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہوجاتا۔‘

پرنب مکھرجی نے کہا کہ اس مسئلے پر تمام سیاسی جماعتموں اور متعلقہ افراد سے مشاورت کی جائے گی اور پھر اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائیگا۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنماء سشما سواراج نے پرنب مکھرجی کے بیان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اس فیصلے سے پارلیمان میں جاری ہنگامہ آرائی ختم ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلوں سے حکومت کی شکست نہیں ہوتی بلکہ جمہوریت کی قدر بڑھتی ہے۔

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس بائیس نومبر کو شروع ہوا تھا تاہم سات دسمبر کو پہلی بار بغیر کسی ہنگامہ آرائی کے کارروائی شروع ہوئی۔ گزشتہ تمام دنوں کے اجلاس بیرونی سرمایہ کاری کے مسئلے پر ہنگامہ آرائی کے نذر ہوگئے تھے۔

اس فیصلے کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ بڑی کمپنیوں کی آمد سے کسانوں کے استحصال کا سلسلہ شروع ہوگا اور ملک سے چھوٹےکاروبار ختم ہوجائیں گے۔

لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ بہت سے دوسرے ملکوں کا تجربہ یہ رہا ہے کہ بھارت جیسے بڑے ملک میں چھوٹے اور بڑے کاروبار ساتھ ساتھ کام کر سکتے ہیں اور جو ریاستیں اس فیصلے کا اطلاق نہیں کرنا چاہتیں ان پر کوئی پابندی نہیں ہے کیونکہ اس پر کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی جا سکتی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ فیصلہ کرتے وقت حکومت کو شاید مخالفت کی شدت کا درست اندازہ نہیں تھا اور چونکہ پارلیمان کی اکثریت اس فیصلے کے خلاف ہے، اس لیے اس کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا اور یہاں تک کہ اسے اپنے فیصلے پر عملدرآمد معطل کرنا پڑا۔

اسی بارے میں