ٹوجی معاملہ: پارلیمان میں وزیرداخلہ کا بائیکاٹ

پی چدامبرم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپوزیشن بی جے پی وزیر داخلہ کا بائیکاٹ کر رہی ہے

بھارت میں ٹو جی بدعنوانی کے معاملے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے وزیرداخلہ پی چدامبرم کے خلاف درخواست گزار سے مزید ثبوت پیش کرنے اور ان کے خلاف بطور گواہ پیش ہونے کو کہا ہے۔

جنتا پارٹی کے صدر سبرامنیم سوامی نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ ٹو جی بدعنوانی معاملے میں وزیر داخلہ پی چدامبرم کے خلاف بھی تفتیش کی جائے۔

اس سلسلے میں سبرامنیم سوامی نے خوداپنے آپ کو بطورگواہ پیش ہونے اور بعض دیگر افراد کو بطور گواہ پیش کرنے کی اجازت مانگی تھی۔

مقدمہ کی سماعت کے بعد خصوصی جج او پی سینی نے کہا کہ وہ اس ماہ کی سترہ تاریخ کو اگلی سماعت کے دوران بطور گواہ پیش ہوسکتے ہیں اور دیگر گواہوں کی اجازت اس وقت دی جائیگی جب وہ مزید ثبوتوں کی بنیاد پر اس کی وجوہات عدالت کو واضح کر سکیں گے۔

سبرمنیم سوامی کا کہنا ہے کہ ٹو جی لائسنس کے اجراء میں جو بھی بےضابطگياں برتی گئی تھیں اس میں ٹیلی مواصلات کے سابق وزیر اے راجہ کے ساتھ اس وقت وزیرخزانہ بھی پی چدامبرم بھی برابر کے شریک تھے۔

سوامی نے عدالت کے فیصلے پر خوشی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اگلی تاریخ کو بطور گواہ پیش ہوں گے اور اگر عدلیہ قائل ہوگئی تو بغیر دوسرے گواہوں کی پیشی کے ہی وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکےگا۔

ادھر اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی، جو پہلے ہی سے وزیرداخلہ کے استعفے کا مطالبہ کرتی رہی ہے اب پارلیمان میں ان کا بائیکاٹ شروع کر دیا ہے۔ آج جب پارلیمان میں وزیر داخلہ پی چدامبرم نے بیان دینا شروع کیا تو ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی جس کے بعد کارروائی ملتوی کر دی گئي۔

ٹیلی مواصلات کے سابق وزیر اے راجہ کو موبائل سروسز کے لائسنس جاری کرنے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزام کا سامنا ہے اور انہیں گزشتہ مہینے نومبر میں حزب اختلاف کے زبردست دباؤ کے بعد استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

بدعنوانی کے کیس کے تحت وہ اس وقت جیل میں ہیں۔ ان پر کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے قواعد و ضوابط سے ہٹ کر اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو کوڑیوں کے دام ’ٹو جی سپیکٹرم‘ کے لائسنس جاری کر کے سرکاری خزانے کو تقریباً پونے دو لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔

جس وقت یہ لائسنس جاری کیےگئے تھے اس وقت پی چدامبرم وزیر خزانہ تھے اور اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ انہیں اس کا علم تھا لیکن انہوں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا۔

اسی بارے میں