کشمیر، کیا حزب المجاہدین ختم ہو رہی ہے ؟

عمران راہی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عمران راہی نے انصارالاسلام نے بنائی تھی جو بعد میں حزب المجاہدین بنی

بھارت کے زیرِ انتطام کشمیر میں علیحدگی کی تحریک کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں عسکری تحریک بھی وجود میں رہی ہے۔ لیکن عسکریت یا شدت پسندی کا باضابطہ اور مؤثر آغاز انیس سو نواسی میں ہوا۔

حزب المجاہدین کشمیر میں عسکری تحریک کی روح رواں رہی ہے۔ وہ نہ صرف یہ کہ شورش زدہ خطے میں سب سے بڑی عسکری تنظیم رہی ہے بلکہ یہ پوری طرح مقامی نوجوانوں پر مشتمل تنظیم رہی ہے۔

گزشتہ تین چار برس میں کشمیر میں شدت پسند سرگرمیوں میں زبردست کمی آئی ہے۔ کئی حلقوں میں یہ تاثر اب عام ہو رہا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک عسکری تنظیم کے طور پرحزب المجاہدین اپنا کردار ادا کر چکی ہے اور اس کا وجود اب محدود ہو گیا ہے۔

غلام رسول شاہ عرف عمران راہی حزب کے بانیوں میں سے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’اس وقت ہمارا خیال تھا کہ ایک ہی چیز جو بچی ہے وہ عسکریت ہے کیونکہ بات چیت سے مسئلہ حل نہیں ہو رہا تھا۔ ہم نے انصار الاسلام کے نام سے ایک تنظیم بنائی جو بعد میں حزب المجاہدین بنی۔‘

نوے کے عشرے میں جب کشمیر میں شدت پسند تحریک اپنے عروج پر تھی اس وقت وادی کے نوجوان اس تنظیم میں بڑے شوق سے شامل ہوا کرتے تھے اور جو تربیت لے کر آتے ان کا ہیرو کی طرح استقبال ہوتا تھا۔

اس وقت کے ایک ایسے ہی نو عمر کمانڈر نے حزب کی تنظیم کے بارے میں بتایا ’یہ ایک منطم تنظیم تھی۔ اس میں جو لوگ تھے وہ اپنے مقصد میں پورا یقین رکھتے تھے، یہ ایک مضبوط پلیٹ فارم تھا۔ اس میں پڑھے لکھے لوگ تھے۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں باخبر لوگ تھے۔ مذہب کے بارے میں علم رکھتے تھے اور وہ ذہنی طور پر تیار تھے کہ انہیں ایک بڑی طاقت کے خلاف عسکری تحریک شروع کرنی ہے۔‘

عسکری تنطیموں کو بالآخرکسی نہ کسی مرحلے پر مذاکرات کی میز پر آنا ہی ہوتا ہے۔ حزب المجاہدین نے بھی ایک مرحلے پر بھارتی حکومت سے بات چیت کا فیصلہ کیا لیکن بات چیت آگے نہ بڑھ سکی اور نہ ہی جنگ بندی قائم رہ سکی۔

اس بات چیت میں کمانڈر ظفر اکبر بٹ بھی شامل تھے۔’یہ ایک تاریخی بات چیت تھی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ 9/11 کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی۔ پوری دنیا نے عسکریت پسندی کو دہشت گردی قرار دیا۔ اس لیے ہم نے بات چیت کا فیصلہ کیا۔‘

ظفر اکبر بٹ کہتے ہیں کہ حزب المجاہدین آج بھی جموں و کشمیر میں پوری طرح موجود ہے اور منظم ہے۔ ’حزب ایک منظم تنظیم ہے اور جو ڈسپلنڈ ہوتا ہے وہ آگے جاتا ہے۔ اس میں ہر طرح کے تجربہ کار اور ہر شعبے کے لوگ ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ تنطیم کو نقصان ہوا ہے۔ کمزوریاں آئی ہیں اور پہلے جیسی کاروائیاں نہیں ہو رہی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ظفر اکبر بٹ کے مطابق حزب آج بھی جموں و کشمیر میں پوری طرح موجود ہے اور منظم ہے

گزرے ہوئے برسوں میں حزب المجاہدین کے ہزاروں کارکن مارے گئے اور اور بہت سےگرفتار کیے گئے۔ بہت سے سابق کمانڈروں اور کارکنوں کو عسکریت سے علیحدگی کے بعد بھی معمول کی زندگی گزارنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک کمانڈر نے بتایا ’ہمارے ساتھ ہر سطح پر، ہر صورت میں زیادتیاں ہور ہی ہیں۔ سماج میں ہمیں ناسور سمجھا جاتا ہے۔ بہت سے سابقہ کارکن بار بار گرفتاریوں، پوچھ گچھ اور اذیتوں کا سامنا کر چکے ہیں۔‘

کشمیر کے موقر روزنامہ ’چٹان‘ کے مدیر اور تجزیہ کار طاہر محی الدین کا خیال ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ حزب المجاہدین ختم ہو رہی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اس کی سرگرمیوں میں قابل ذکر کمی آئی ہے۔’سرگرمیاں کم ہونے کا واضح مطلب ہے کہ ان کی طاقت میں کمی آئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ 9/11 ہے۔ کیونکہ اس کے بعد پاکستان پر بہت دباؤ پڑا۔ مشرف کے زمانے میں پابندیاں لگائی گئیں۔ بھرتی بند ہوگئی۔ تربیت بند ہوگئی۔ یہاں فیلڈ میں جو سرگرم ملیٹینٹ ہوتے تھے، اگر وہ دس مارے جاتے تو دس نئے آجاتے تھے۔ لیکن اب صرف مارے جاتے ہیں نئے نہیں آتے ۔‘

طاہر کہتے ہیں کہ اس مرحلے پر کشمیر ایسی حالت میں ہے جہاں عوام پوری طرح تذبذب کا شکار ہیں۔’ہر طرح کے مصائب جھیلنے کے بعد لوگ اپنے خول میں چلے گئے ہیں وہ لاتعلق ہو چکے ہیں۔‘

ایک سابقہ کمانڈر جو اب سرگرم نہیں، کہتے ہیں کہ وادی کی نئی نسل پر امن طریقے سے اپنی آواز اٹھانا چاہتی ہے لیکن انہیں اس کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ سنہ انیس سو نوے کے عشرے میں جن لوگوں نے آنکھیں کھولیں انہوں نے بھارت کی صرف گولیاں اور ڈندے دیکھے ہیں۔ ’وادی میں سنہ دو ہزار آٹھ میں بچوں کو شہید کیا گیا، سنہ دو ہزار نو میں ایسا کیا گیا اور سنہ دو ہزار دس میں یہی کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ کچھ لوگوں کا ذہن اس جبر کے خلاف تشدد کی طرف جا سکتا ہے۔ اگر ہندوستان کا یہی جابرانہ رویہ رہا تو نئی نسل کے کچھ لوگ بندوق اٹھانے کے لیے مجبور ہو سکتے ہیں۔‘

کشمیر اس مرحلے پر قدرے پر سکون ہے۔ شت پسند سرگرمیاں بہت کم ہو چکی ہیں۔ سکیورٹی فورسز بھی شہروں اور قصبوں میں اب کم دکھائی دے رہی ہیں۔ تو کیا حزب المجاہدین جیسی عسکری تنظیموں کا کردار سمٹ رہا ہے۔ اس سوال کا جواب شاید اس وقت کسی کے پاس نہیں ہے۔

اسی بارے میں