کولکتہ، ہسپتال میں آتشزدگی، تہتر افراد ہلاک

کولکتہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امدادی کارکن پھنسے ہوئے مریضوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارت کے شمالی شہر کولکتہ میں ایک نجی ہسپتال میں آگ لگنے سے سے تہتر افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ بیشتر ہلاکتیں دم گھٹنے سے ہوئی ہیں۔

بی بی سے کے نامہ نگار امیتابھ بھٹاسالی نے بتایا ہے کہ ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے تہتر افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں ستر مریض اور تین ہسپتال کے ملازمین شامل ہیں۔

یہ واقعہ کولکتہ کے جنوبی علاقے ٹھاکریہ کے نجی ہسپتال میں پیش آیا ہے۔

اے ایم آر آئی ہسپتال کے سینئیر نائب صدر ایس اوپادھیاے کے مطابق ہسپتال کے بیسمینٹ میں ایک سو ساٹھ مریض موجود تھے جن میں سے ستر کی موت ہوچکی ہے۔ تقریبا نوے زخمی افراد کو مختلف ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

ٹھاکریہ کے آے ایم آر آئی ہسپتال میں یہ آگ جمعہ کے روز ہسپتال کے زیرِ زمین حصے میں لگی۔ آگ پر قابو پانے میں پانچ گھنٹے لگے۔ حالانکہ ابھی بھی ہسپتال کے آئی سی یو اور آئی سی سی یو میں کئی مریض پھنسے ہیں جنہیں نکالنے کی کوشش جاری ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے جائے وقوع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا ہے اور قریب کے ہسپتالوں سے اپیل کی ہے وہ مریضوں کو اپنے ہسپتالوں میں داخل کرکے جلد سے جلد ان کا علاج شروع کریں۔

امدادی کارکن ہسپتال کی اوپر کی منزلوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہاں پھنسے مریضوں کو بچایا جا سکے۔

مغربی بنگال کے شہری ترقی کے وزیر فرہاد حاکم نے صحافیوں کو بتایا ’دھوئیں کے باعث مریضوں کا دم گھٹ گیا اور کئی ہلاک ہو گئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آگ عمارت کے زیرِ زمین حصے میں لگی جہاں ایسی اشیاء رکھی جاتی تھی جنہیں باآسانی آگ لگ سکتی ہے۔ جس کے بعد یہ تیزی سے اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی۔ آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکتی ہے۔

متعدد مریضوں کو بچا لیا گیا اور انہیں دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایک بچ جانے والے مریض نے بتایا ’ہسپتال کے ایک اہلکار نے مجھے جگایا اور گھسیٹتا ہوا سیڑھیوں سسے نیچے لے گیا۔ میں نے دس سے پندرہ مریضوں کو سیڑھیوں کے اوپر دیکھا جو نیچے آنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

عینی شاہدین کے مطابق آگ ہسپتال کی سبھی منزلوں تک پھیل گئی ہے اور ابھی بھی بہت سارے مریض مختلف منزلوں کے کمروں میں پھنسے ہیں۔

اسی درمیان ہسپتال کے خلاف لاپرواہی برتنے کی ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔

آگ لگنے کی وجوہات ابھی معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ آگ پہلے ہسپتال کے زیر زمین حصے میں واقع بجلی گھر میں لگی اور پھر دھیرے دھیرے دوسری منزلوں تک پہنچ گئی۔

جائے وقوع پر موجود ایک ڈاکٹر نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے بتایا ’ہسپتال میں اچانک امونیا گیس کا اخراج شروع ہوگیا جس کے بعد افراتفری مچ گئی۔ کئی افراد کی موت دم گھٹنے سے ہوئی جبکہ کئی کی موت جھلسنے سے ہوئی ہے۔‘

اسی بارے میں