انسانی حقوق: کشمیری اقلیتیں بھی ناراض

آغیا کور تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشمیر میں اقلیتوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں

پینتالیس سالہ سِکھ خاتون آغیا کور پچھلے گیارہ سال سے بلا ناغہ ہر روز صبح چار بجےگوردوارہ جاتی ہیں۔مارچ دو ہزار میں فوجی محاصرے کے دوران ان کا کم سن بیٹا ایچھ پال سنگھ لاپتہ ہوگیا تھا۔

سیاستدانوں، وزیروں، پولیس افسروں اور دوسرے اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں سے نااُمید ہوچکی آغیا کہتی ہیں ’اب تو اوپر والا ہی کچھ کرے گا، مجھے یقین ہے وہ واپس آئے گا۔‘

آغیا کور تو اقلیتوں کےانسانی حقوق کی پامالی کی محض ایک مثال ہیں۔ جموں کشمیر کی سوا کروڑ آبادی میں سکھوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی کم ہے لیکن پچھلے اکیس برس میں سکھ باشندوں کو بھی طرح طرح کے مظالم کا سامنا رہا۔

مقامی تنظیم سِکھ کارڈیشن کمیٹی کے سربراہ جگموہن سنگھ رعنا کہتے ہیں کہ ریاست میں تقریباً ایک سو اسّی سکھ شہریوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ان میں سے وادی کشمیر میں دس افراد کو لاپتہ کردیا گیا اور ایک ستّر ایسے ہیں جنہیں پنجاب پولیس نے جموں صوبے سے گرفتار کرکے ملیٹینسی کے نام پر لاپتہ کردیا۔‘

سرینگر کے سولنہ بازار کے معروف درزی بلبیر سنگھ کو اُنیس سو بانوے میں پولیس کی ٹاسک فورس نے گرفتار کیا اور وہ تشدد کے دوران ہلاک ہو گئے لیکن ان کے لواحقین کو ابھی تک لاش بھی نہیں ملی۔

سِکھ گروپوں کا کہنا ہے کہ اجتماعی قتل کی وارداتوں سمیت سِکھ ہلاکتوں کی کل تعداد ڈھائی سو ہے۔ انصاف اور بحالی کے مواقع نہ ملنے پر سِکھ آبادی حکومت سے ناراض ہے۔

یہی حال اعتدال پسند ہندو عقیدہ رکھنے والے کشمیری پنڈتوں کا ہے۔ اُنیس سو نوّے میں جب مسلح شورش شروع ہوئی تو پنڈت شہریوں کے قتل کی مسلسل وارداتوں کے بعد پنڈت وادی چھوڑ کر چلے گئے لیکن چھہ سو سے زائد کنبوں نے آبائی وطن چھوڑنا گنوارا نہ کیا۔

ایسے ہی غیر مہاجر پنڈتوں کے ترجمان سنجے تِکو کہتے ہیں کہ ساڑھے چھ سو پنڈت شہریوں کو سرکاری یا غیرسرکاری فورسز نے قتل کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشمیری پنڈتوں کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے وہ اپنے ہی وطن میں غیر محفوظ ہیں

تاہم سرکاری طور ابھی تک صرف دو سو اُنتیس ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ مسٹر تِکو کہتے ہیں کہ ایک خاتون سمیت پانچ پنڈت شہری بھی لاپتہ ہیں اور ان کے اہل خانہ کو آج بھی ان کا انتظار ہے۔

تازہ واقعہ اسی سال اپریل میں ہوا جب بیس سالہ سُنیل رعنا جنوبی کشمیر کے عشمقام میں واقع اپنے گھر سے نکلا اور لاپتہ ہوگیا۔ اس پر علیٰحدگی پسندوں نے بھی مظاہرے کئے۔

اقلیتی شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں حکومت اور اکثریتی آبادی کی نمائندگی کرنے والے گروپوں کے درمیان اختلاف ہے۔

حکومت کا موقف یہی رہا ہے کہ عسکریت پسندوں نے دہشت پھیلانے کے لئے اقلتیوں کو نشانہ بنایا لیکن علیٰحدگی پسند کہتے ہیں کہ سرکاری فورسز نے ’تحریک کو بدنام کرنے کے لئے غیرمسلموں کو بھی ظلم کا نشانہ بنایا۔‘

انسانی حقوق کے سرکرہ کارکن خُرم پرویز اس حوالے سے جموں کے تین ہندو مزدوروں کی مثال دیتے ہیں۔ یہ مزدور کشمیر میں فوج کے ساتھ کام کرتے تھے لیکن بعد میں مبینہ طور ایک فرضی جھڑپ میں مارے گئے اور انہیں پاکستانی عسکریت پسند قرار دیا گیا۔

اس قتل کا راز اُس وقت افشاں ہوا جب کیپٹین سُمیت کوہلی کا لکھا ایک خط جموں کے چھتہ گاؤں کی میسو دیوی کوملا جس میں اعتراف کیا گیا تھا کہ فوج کی اٹھارہ راشٹریہ رائفلز سےوابستہ اہلکاروں نے میسو دیوی کے بیٹے دوسرے دو لڑکوں کو فرضی جھڑپ میں قتل کردیا۔

کچھ روز بعد ہی کیپٹین سُمیت کوہلی کی پراسرار موت ہوگئی۔ کیپٹین کوہلی کی ماں، بیوی اور بہن نے نئی دلّی میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ان کے بیٹے کو ان ہی فوجیوں نے قتل کیا جو نہیں چاہتے تھے کہ تین ہندو لڑکوں کے قتل کا قصہ منظر عام پر آئے۔

ان واقعات کے حوالے سے اکثر حلقے سمجھتے ہیں کہ کشمیر میں رہنے والے تمام لوگوں کے ساتھ بلاامتیاز زیادتیاں ہوئی ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ اقلیتیوں سے تعلق رکھنے والے شہری علیٰحدگی پسندوں یا انسانی حقوق کے کارکنوں کے ہمراہ انصاف کی دہائی نہیں دیتے؟

اس سوال کے جواب میں خرم پرویز کہتے ہیں ’یہاں تو انسانی حقوق کی بات کرنے پر لوگوں کو قتل کیا گیا ہے اور اکثر اوقات جیل ہوتی ہے۔ لہٰذا پنڈتوں یا سکھوں کولگتا ہے کہ یہاں انصاف کی بات کرنا حکومت کے خلاف جنگ کرنا ہے۔ یہ لوگ تو پہلے ہی متاثر ہوئے ہیں، یہ نہیں چاہتے کہ ان پر کوئی اور ظلم ہو۔‘

اسی بارے میں