ہسپتال کے سات اہلکار گرفتار، نوے ہلاکتیں

بھارت تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بیشتر مریض دھوئیں کے باعث دم گُھٹنے سے ہلاک ہوئے۔

بھارت کے شمالی شہر کولکتہ کے ایک نجی اسپتال میں لگنے والی آگ کے مقدمے میں پولیس نے سات افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور ان کے خلاف لاپروائی اور قتل کے دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

کولکتہ سے بی بی سی کے مغربی بنگال کے نامہ نگار امیتابھ بھٹّاسالي کا کہنا ہے کہ اے ایم آر آئی اسپتال کے سات افسران کو جو خود ہی پولیس کے سامنے پیش ہوئے تھے ہفتے کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

اسی دوران جمعہ کی صبح پیش آنے والے اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نوے ہو چکی ہے۔ مرنے والوں میں ہسپتال کے چند ملازمین بھی شامل ہیں۔

اس حادثے کو ہسپتال کو پیش آنے والا ملک کا سب سے بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

فائر بریگیڈکا عملہ جن مریضوں کو اسپتال سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوا ہے ان میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

حکام نے ہسپتال کا لائسنس بھی منسوخ کر دیا ہے۔

اب تک سامنے آنے والی خبروں کی بنیاد پر کہا جا رہا ہے کہ آگ کی شروعات عمارت کے تہہ خانے سے ہوئی۔

اے ایم آر آئی ہسپتال کا تہہ خانہ، پارکنگ کے نام پر بنایا تھا لیکن کہا جا رہا ہے کہ اس کا استعمال سٹور روم کے طور پر کیا جا رہا تھا۔

حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ ہسپتال کو کچھ ماہ پہلے ہی وارننگ دی گئی تھی کہ عمارت میں آگ سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات نہیں ہیں نہ ہی وہ ضابطوں کے مطابق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کے باوجود اس میں کوئی بہتری نہیں کی گئی۔ تاہم ہسپتال کے ایک اعلی اہلکار نے کہا ہے کہ وہاں آگ سے نمٹنے کے تمام اقدامات کئے گئے تھے اور گاہے بگاہے ان کا معائنہ بھی کیا جاتا تھا۔

مغربی بنگال میں فائر وزیر جاوید احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال نے آگ لگنے کے باوجود فائر بریگیڈ کو اس کی خبر نہیں دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے محکمے کو اس کی خبر پولیس سے ملی۔

ہسپتال پر ہنگامی حالت میں باہر نکلنے کے لئے کوئی بھی متبادل راستہ نہ بنانے کا بھی الزام ہے۔ فائر ملازمین کو مریضوں کو نکالنے کے لئے کھڑکیوں کے شیشے توڑنے پڑے۔ کافی مریضوں کو رسيوں کے سہارے اوپر کی منزلوں سے نیچے اتارا گیا۔ ان میں سے کئی پہلے سے ہی شدید بیماریوں میں مبتلا تھے اور اس ہنگامی صورتحال کی وجہ سے ان کی حالت اور بگڑ گئی ہے۔

ہسپتال نے حادثے کے باعث ہلاک ہونے والوں کے خاندان کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ اور زخمیوں کے مفت علاج کا اعلان کیا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نے اس معاملے پر گہرے دکھ اظہار کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ مارے جانے والوں کے اہل خانہ کو دو، دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو پچاس ہزار روپے معاوضہ دیا جائے گا۔

اسی بارے میں