بھارتی پارلیمان پر حملے کا دسواں سال

تصویر کے کاپی رائٹ agency
Image caption پارلیمان پرحملے کے دوران شدت پسندوں سے مقابلہ کرتے ہوئے نو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے

سنہ دو ہزار ایک میں ہوئے بھارتی پارلیمان پر حملے کے منگل کو دس برس پورے ہورہے ہیں۔ دس برس قبل تیرہ دسمبر کو مسلح شدت پسندوں نے اس پر حملہ کیا تھا۔اس حملے میں حملہ آوروں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس معاملے میں جن افراد پر مقدمہ چلایا گيا ان میں سے افضل گرو کو موت کی سزا سنائی گئی تھی جو اب بھی جیل میں ہیں اور ان کی سزا کا موضوع متنازع بنا بن چکا ہے۔

منگل کی صبح اس واقعے میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی یاد میں پارلیمان کے احاطے میں ایک خاص تقریب منعقد کی گئی جس میں وزیراعظم منموہن سنگھ، لوک سبھا کی سپیکر میرا کمار، بی جے پی کے رہنماء لال کرشن اڈوانی اور وزیر خزانہ پرنب مکھرجی سمیت کئی سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی۔

تیرہ دسمبر سنہ دو ہزار ایک میں معمول کے مطابق پارلیمان کے دونوں ایونوں کا سرمائی اجلاس حملے سے محض چند منٹ پہلے ہی ملتوی ہوا تھا۔

صبح گیارہ بج کر پچیس منٹ پر پانچ نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔ حملہ آور اے کے 47 اور گرینیڈ جیسے ہتھیاروں سے لیس تھے۔ اس کے بعد کافی دیر تک پارلیمان کے خاص دروازے کے پاس سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان گولہ باری جاری رہی تھی۔

اس مقابلے میں کل چودہ لوگ مارے گئے تھے جس میں پانچ حملہ آور اور باقی دلّی پولیس کے اہلکار شامل تھے۔

جب پارلیمان پر حملہ ہوا تو اس وقت کئی اہم رہنماء ایوان کے اندر ہی موجود تھے اور وہ محفوظ رہے تھے۔ اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت تھی اور بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی تھے۔

اس حملے کے بعد ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ دونوں ملک جنگ کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔

پارلیمان پر حملے کے مقدمے میں دلّی کی ایک خصوصی عدالت نے حملے کی سازش کرنے اور حملہ آوروں کی مدد کرنے کے جرم میں تین افراد کو موت کی سزا سنائی تھی۔

ان میں محد افضل گرو، شوکت حسین عرف گرو اور دلّی یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالرحمان گیلانی شامل تھے۔ شوکت کی بیوی نوجوت سدھو عرف افشان گرو کو بھی عدالت نے پانچ برس قید کی سزا سنائی تھی۔

لیکن دو ہزار تین میں دلّی ہائی کورٹ نے عبدالرحمن گیلانی اور افشان گرو کو اس معاملے سے بری کر دیا تھا اور باقی دو کی موت کی سزا برقرار رکھی تھی۔

بعد میں سپریم کورٹ نے شوکت کی سزا دس برس کر دی تھی جو دو ہزار دس میں مکمل ہوگئی تھی۔ اب صرف افضل گرو قید ہیں جن کی موت کی سزا کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کر دی تھی۔

اسی بارے میں