چین کےحملے کا کوئی خدشہ نہیں:منموہن سنگھ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منموہن سنگھ چینی قیادت سے بات کرتے رہے ہیں

بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اس بات پر یقین نہیں رکھتی کہ چین بھارت پر حملہ کرنے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی چین کے ساتھ سرحد مکمل طور پر پرامن ہے۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’میری حکومت اس خیال سے متفق نہیں ہے کہ چین بھارت پر حملے کے منصوبے بنا رہا ہے ۔‘

منموہن سنگھ نے یہ بیان سماجوادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو کی طرف سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں دیا۔

مسٹر یادو نے کہا تھا کہ انہیں بعض ذرائع سے یہ اطلاع ملی ہے کہ ’چین نے بھارت پر حملے کی تیاریاں کر رکھی ہیں اور اس نے اس مقصد کے لیے سرحد کے نزدیک بعض علاقوں کی نشاندہی بھی کر رکھی ہے اور وہ جلد ہی حملے کرنے والا ہے۔‘

مسٹر یادو نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چین نے تبت سے نکلنے والے دریائے برہم پترا کے پانی کا رخ بھی بھی موڑ دیا ہے۔

وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنے جواب میں کہا کہ یہ خبریں بے بنیاد ہیں تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ چین کی طرف سے بعض اوقات ان علاقوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے جنہیں بھارت اپنا علاقہ سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کو دونوں ملکوں کے کمانڈروں کے اجلاس میں حل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے برہم پترا کے سلسلے میں کہا کہ اس کے بارے میں چینی قیادت سے ان کی بات ہو ئی ہے اور انہیں’اعلیٰ ترین سطح پر یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ چین نے برہم پترا دریا کے پانی کی روانی میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت چین سے مذاکرات کرنے اور بہتر تعلقات قائم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ان سے پہلے واجپائی حکومت کی بھی یہی پالیسی رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے نمائندے سرحدی تنازعات پر بات چیت کرتے رہے ہیں اور 2005 میں کچھ پیش رفت بھی ہوئی تھی لیکن اس کے بعد بات جیت زیادہ آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔

اسی بارے میں