لوک پال بل کے مسودے پرکُل جماعتی اجلاس

منموہن سنگھ/ سونیا تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیراعظم لوک پال بل پر سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے چاہتے ہیں

بھارت میں بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے مجوزہ لوک پال بل کے تنازع کو حل کرنے کے لیے حکومت نے کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ اس پر اتفاق رائے قائم ہوسکے۔

اس اجلاس میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتیں بھی حصہ لے رہی ہیں تاکہ پارلیمان میں بل آنے سے پہلے متنازع نکات پر تمام جماعتوں کا موقف واضح ہو سکے۔

اطلاعات ہیں کہ حکمراں اتحاد میں شامل جماعتیں بھی اب اپوزیشن کے اس موقف کی حامی ہیں کہ لوک پال کے دائرے میں وزیراعظم کو بھی آنا چاہیے لیکن وہ اس کے لیے بعض شرائط کے نفاذ پر مُصِر ہیں۔

لیکن سب سے اہم مسئلہ مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی اور نچلے درجے کی بیوروکرسی کا ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا موقف ہے کہ سی بی آئی اور درمیانے اور نچلے طبقے کے سرکاری ملازمین کو لوک پال کے دائرے میں شامل کرنا چاہیے۔

لیکن حکمراں کانگریس اور اس کی اتحادی جماعت شاید سی بی آئی کو لوک پال کے دائرے سے الگ رکھنا چاہتی ہیں اور یہ ہی اب تک سب سے پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔

گزشتہ روز ریاست اتر پردیش کی وزیراعلٰی مایا وتی نے بھی اس موقف کی حمایت کی تھی کہ وزیراعظم اور سی بی آئی کو اس کے دائرے میں آنا چاہیے۔ اس کے بعد سے حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

ان ہی مختلف آوازوں کے درمیان حکومت نے کل جماعتی اجلاس بلایا ہے تاکہ اس مسئلے پر اتفاق رائے ہونے کے بعد بل کو متعارف کرایا جائے۔ کل جماعتی اجلاس سے پہلے منگل کو وزیراعظم نے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ ایک اجلاس بھی کیا تھا۔

پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں لوک پال بل کے مسودے پر عبوری کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی گئی تھی لیکن بدعنوانی کے خلاف تحریک چلانے والے سرکردہ کارکن انّا ہزارے اور ان کی ٹیم اس مسودے سے خوش نہیں ہے۔

اس سے قبل انّا ہزارے نے کہا تھا کہ حکومت نے بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اگر پارلیمان کے سرمائی اجلاس میں ایک سخت قانون منظور نہ کیا تو وہ ان پانچ ریاستوں میں تحریک شروع کریں گے جہاں جلد ہی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں۔

لوک پال بل سے متعلق حکومت پر ہر طرف سے دباؤ ہے کہ اسے اسی سرمائی اجلاس میں اسے پیش کیا جائے۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت اس بل پر بحث کے لیے رضامند ہے اور اس اجلاس میں یہ بل زیر بحث آنے والا ہے تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ اسے منظور کب تک کیا جائےگا۔

اسی بارے میں