زہریلی شراب، ہلاکتیں ایک سو ساٹھ ہوگئیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے

بھارتی ریاست مغربی بنگال میں حکام کے مطابق زہریلی شراب پینے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو ساٹھ ہو گئی ہے جبکہ دوسو افراد کا علاج جاری ہے۔

بنگال کی وزیرِ اعلی ممتا بینرجی نے سی آئی ڈی کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

انہوں نے لوگوں میں زہریلی شراب سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے مہم چلانے کی غرض سے کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ پولیس نے اس معاملے میں دس افراد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کے مطاب بارہ دیہاتوں کے لوگوں نے زہریلی شراب پی رکھی ہے جن میں دس سے بارہ سال کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔

پولیس زہریلی شراب کی فروخت کے اڈوں پر چھاپے مار کر انہیں سیل کر رہی ہے۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ہسپتالوں میں زہریلی شراب سے متاثر ہونے والے افراد کی آمد کا سلسلہ جاری رہا اور اب بھی بہت سے افراد کی حالت نازک ہے۔

زہریلی شراب پینے کا واقعہ منگل کی رات جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے علاقوں مگراہٹ، استھی اور مندر بازار پیش آیا تھا اور یہ مہلک شراب پینے والوں میں زیادہ تر ركشہ چلانے والے اور مزدور شامل ہیں۔

ان افراد کو ڈائمنڈ ہاربر سب ڈویژن ہسپتال، سگرامپر اور کولکتہ منتقل کر دیا گیا تھا۔

مغربی بنگال حکومت کے وزیرِ مملکت شيامل منڈل نے بی بی سی کو بتایا کہ جن سو سے زائد افراد کو ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا ان میں سے کئی کی حالت تاحال نازک ہے۔

مغربی بنگال کی حکومت نے مرنے والوں کے اہل خانہ کو دو لاکھ روپے زرِ تلافی دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر شيامل منڈل کے مطابق ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو متاثرہ علاقے میں بھیجا گیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اس حادثے کے بعد مقامی لوگوں نے موگراہاٹ علاقے میں شراب بنانے والے ایک کارخانے میں توڑ پھوڑ کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہیں سے شراب بنا کر سگرامپر میں فروخت کی جاتی تھی۔

بھارت میں زہریلی شراب سے ہلاکتیں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

گزشتہ ہفتے ریاست گجرات میں ایک قانون منظور کیا گیا ہے جس کے تحت غیر قانونی شراب بنانے اور اسے فروخت کرنے پر موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔

گجرات بھارت کی واحد ریاست ہے جہاں شراب پر پابندی ہے۔

ملک کے کئی حصوں میں ایسی دیسی شراب سستی مل جاتی ہے اور اسے پینے والے زیادہ تر غریب دیہاڑي دار مزدور ہوتے ہیں۔ ایسی شراب میں نشہ بڑھانے کے لیے اسے فروخت کرنے والے اس میتھائل الكوحل ملا دیتے ہیں جو کہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔

اسی بارے میں