لڑکھراتی معیشت پر بھارتی حکومت کی تشویش

بھارت کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کی لڑکھڑاتی ہوئی معیشت کو سنبھالنےکے لیے حکومت کے سامنے راستے محدود ہوتے جارہے ہیں۔

بھارتی معیشت گزشتہ تقریباً ایک سال سے مسلسل مشکلات کا شکار ہے اور ملک کے اندر بے قابو مہنگائی اور عالمی سطح پر مالی عدم استحکام حکومت اور کارپوریٹ دنیا کے لیے سب سے بڑا درد سر بنے ہوئے ہیں۔

اسی موضوع پر دارالحکومت دلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنب مکھرجی نے کہا کہ معیشت میں سست روی کا مقابلہ کرنے کے لیے ’اب راستے زیادہ محدود ہیں۔ (صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے) مالی اقدامات کی گنجائش کم ہوتی جارہی ہے لیکن دوسرے شعبوں میں قانون سازی کی گنجائش ہے۔‘

حکومت کو معاشی بدحالی پر تشویش ہے اور بھارتی روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے گر رہی ہے۔ گزشتہ تقریباً پانچ مہینوں میں روپے کی بیس فیصد قیمت گر چکی ہے اور ایک ڈالر کی قیمت اب تاریخ میں پہلی مرتبہ چون روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

پرنب مکھرجی نے کہا کہ ان چیلنجوں سے بیک وقت مقابلہ کرنے کے لیے ’غیر روایتی اقدامات‘ کی ضرورت ہے کیونکہ سود کی اونچی شرح سے معیشت کی شرح نمو اور سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہو رہا ہے۔

بھارت میں معیشت دس فیصد کے قریب گردش کر رہی ہے اور گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال میں تیرہ مرتبہ شرح سود بڑھانے جانے کے باجود مہنگائی پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ انہیں خاص طور پرصنعتی ترقی کی رفتار کم ہونے پر تشویش ہے کیونکہ اس سے روزگار کا براہ راست تعلق ہے۔

حکومت مہنگائی کی شرح کو چار سے پانچ فیصد کے درمیان رکھنا چاہتی ہے۔ مسٹر مکھرجی نے یہ بھی کہا کہ انہیں بڑھتے ہوئے مالی خسارے پر بھی تشویش ہے۔

گزشتہ چند مہینوں میں صنعتی پیداوار سے لے کر برآمدات تک، ہر شعبے سے بھارتی معیشت کے لیے بری خبر آئی ہے جس کے بعد حکومت نے رواں مالی سال میں معیشت کی شرح نمو کا تخمینہ نو فیصد سے گھٹا کر ساڑھے سات فیصد کر دیا ہے لیکن بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں جب غیر ملکی سرمایہ کار پیسہ لگانے سے گریز کر رہے ہیں، یہ ہدف بھی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت نے اخراجات کے جو منصو بے بنائے تھے ان میں یا تو کٹوتی کرنی ہوگی یا مزید قرض لینا ہوگا جس سے مالی خسارہ بڑھےگا جو معیشت کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔

گزشتہ مالی سال میں بھارتی معیشت نے ساڑھے آٹھ فیصد کی رفتار سے ترقی کی تھی لیکن اب کارپوریٹ شعبہ یہ شکایت کر رہا ہے کہ حکومت نے سود کی شرح بہت زیادہ بڑھا دی ہے جس سے اقتصادی سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ ریزرو بینک کی مالی پالیسی سے متعلق کمیٹی جمعہ کو اپنے اجلاس میں یہ فیصلہ کرے گی کہ سود کی شرح مزید بڑھائی جائے یا اسی سطح پر چھوڑ دی جائے۔

سن دو ہزار آٹھ میں کساد بازاری سے نمٹنے کے لیے بھارتی حکومت نے تقریباً پونے دو لاکھ کروڑ روپے کا مالی پیکج فراہم کیا تھا لیکن ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں اس کے پاس کسی بڑے مالی پیکج کی گنجائش نہیں ہے۔

مسٹر مکھرجی نے کہا کہ حکومت نے سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے حال ہی میں کئی اقدامات کیے ہیں اور یہ کہ اقتصادی اصلاحات پر عمل درآمد میں حزب اختلاف کو تعاون کرنا چاہیے۔

حکومت نے گزشہ ماہ والمارٹ جیسی غیر ملکی کمپنیوں کو بھارت میں سوپر مارکٹس کھولنے کی اجازت دی تھی لیکن خود اپنی اتحادی جماعتوں اور حزب اختلاف کے دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے اسے اس فیصلے کو معطل کرنا پڑا۔

اس وقت شاید سب سے زیادہ تشویش بھارتی روپے کی گرتی ہوئی قدر پر ہے لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ڈالر کی طلب اتنی زیادہ ہے کہ ریزرو بینک چاہتے ہوئے بھی کوئی موثر اقدامات نہیں کرسکتا۔

اسی بارے میں