کشمیر: پتھراؤ سے ایک شہری کی ہلاکت

طارق تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حملے کے سلسلے میں بعض لوگ گرفتار کیےگئے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سنگ بازوں کے ہاتھوں ایک شہری کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال کی گئي ہے۔

پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کے ہاتھوں ایک دکان دار کی موت کے خلاف جمعرات کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے تجارتی مرکز سرینگر کے بعض علاقوں میں ہڑتال کی گئی۔ علیٰحدگی پسندوں نے اس واقعہ کو ’تحریک کا زوال‘ قرار دیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق تین دسمبر کو پُرانے سرینگر کے نوہٹہ اور راجوری کدل علاقوں میں مظاہرین پولیس کی زیادتیوں کے خلاف ہڑتال کروانا چاہتے تھے اور ان کے درمیان تصادم ہوگیا۔

تصادم کے دوران بعض مشعتل نوجوانوں نے طارق سلام بٹ نامی ایک چھبیس سالہ دکان دار کے سر پر کرکٹ بلے سے وار کیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔ دو ہفتوں تک بے ہوش رہنے کے بعد بدھ کو ان کی موت ہوگئی۔

عینی شاہدین کے مطابق طارق کی نماز جنازہ میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور جمعرات کو مقامی تاجر برادری کی کال پر ہڑتال کی گئی۔

اعلیٰ پولیس افسر شوکت حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سلسلے میں رئیس، سُہیل، ہارون اور حسن نامی چار نوجوانوں کوگرفتار کیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے نوجوان طارق کے بھائی شوکت بٹ نے بتایا کہ’ ہم تو صرف انصاف چاہتے ہیں، جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔‘

دریں اثنا پتھراؤ کی وجہ سے شہری کی ہلاکت پر لوگوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔

علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کے قریبی ساتھی محمد اشرف صحرائی جمعرات کو مقتول کےگھرگئے اور وہاں لواحقین کے ساتھ تعزیت کی۔

انہوں نے کہاکہ’یہ ہمارے زوال کی نشانی ہے کہ ہمارے اپنے ہی ہاتھوں ایک معصوم کی جان ضائع ہوئی۔‘

قابل ذکر ہے کہ پچھلے تین سال سے پرتشدد مزاحمت کے طریقہ کار پر علیحدگی پسند حلقوں میں بحث ہو رہی ہے۔

سّید علی گیلانی اکثر اصرار کرتے ہیں کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران پتھراؤ نہ کیا جائے لیکن سنگ بازی کا عمل وقفے وفقے سے جاری ہے۔

اسی بارے میں