لوک پال بل کیلیے اجلاس میں توسیع کامطالبہ

اننا ہزارے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اننا ہزارے گزشتہ کئی ماہ سے احتجاجی مہم چلائے ہوئے ہیں

بھارت میں سرکاری حلقوں میں بدعنوانی کے خلاف روک تھام کے لیے قانون بنانے کا مطالبہ کرنے والے سماجی کارکن انّا ہزارے نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو لوک پال بل منظور کرانےکے لیے پارلیمان کے اجلاس میں توسیع کرنی چاہیے۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اگر اس بل کو سرمائی اجلاس میں متعارف نہیں کرایا گيا تو وہ پھر سے بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔

انا ہزارے کا یہ بیان ایک ایسے وقت آيا جب گزشتہ رات وزیراعظم کی طرف بلائی گئي کل جماعتی میٹنگ میں لوک پال کے مسئلے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت اس معاملے پر دوسری جماعتوں کے ساتھ مزید مشاورت کے حق میں ہے اور جلد بازی میں فیصلہ کرنے کے بجائے مزید مہلت چاہتی ہے۔

جمعرات کو انّا ہزارے نےایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر لوک پال بل پر کل جماعتی اجلاس میں اتفاق نہیں ہو پایا ہے تو کوئی بات نہیں لیکن ارکان پارلیمان متفق ہوجائیں گے۔ ’حکومت میں ہر شخص کی طرف سے ہمیں یہ یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ وہ لوک پال بل ہمیں دیں گے، ہمیں ان پر بھروسہ رکھنا چاہیے لیکن اگر وہ اسے ناں لائے تو ہم اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’اگر اس بل کو منظور کرنے کے لیے (موجودہ شیڈول کے مطابق) وقت کم ہو تو پھر پارلیمان کے اجلاس میں توسیع کی جائے۔ یہ ملک کے لیے بہت اہم ہے اور اس سے پہلے بھی کئی بار ضرورت پڑنے پر اجلاسوں میں توسیع کی گئی ہے۔‘

لوک پال بل اسی سرمائی اجلاس میں زیر بحث آنا تھا اور حکومت اس بل پر بحث کے لیے راضی ہے لیکن بل کے مسودے پر کافی اختلافات ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے موقف جدا جدا ہیں۔

اس پر اتفاق رائے کے لیے وزیر اعظم نے جو کل جماعتی میٹنگ طلب کی تھی وہ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوگئی ہے اور اطلاعات کے مطابق سیاسی جماعتیں اس پر مزید غور و فکر کے لیے وقت چاہتی ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں اگر بل کو متعارف کرایا گيا اور زیر بحث آیا تو مزید مسائل پیدا ہوں گے۔

دوسری طرف انّا ہزارے کی ٹیم اس بات پر بضد ہے کہ اس بل کو اسی اجلاس میں منظور کیا جائے۔ حکومت پر دباؤ بنانے کے لیے انا نے اتوار کو ایک روز کی اجتماعی بھوک ہڑتال کی تھی۔

اس سے قبل انّا ہزارے نے کہا تھا کہ حکومت نے بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اگر پارلیمان کے سرمائی اجلاس میں ایک سخت قانون منظور نہیں کیا تو وہ ان پانچ ریاستوں میں تحریک شروع کریں گے جہاں جلدی ہی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں۔

اسی بارے میں