’الحاق پاکستان اور آزادی کا مسئلہ ختم‘

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں بائیس سال قبل جن عسکری گروپوں نے سیاسی نظریات کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اُٹھائے تھے، رواں ہفتے جمعہ کو ایک اعلیٰ عسکری کمانڈر کی برسی پر انھوں نے اختلافات بھلا کر مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

علیٰحدگی کی بائیس سالہ تحریک کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے کہ ’جموں کشمیر لبریشن فرنٹ‘ اور حزب المجاہدین کے سابق عسکری کمانڈروں نے حزب المجاہدین کے ایک اعلیٰ کمانڈر شمس الحق کی برسی پر مشترکہ فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا۔

لبریشن فرنٹ پاکستان اور ہندوستان دونوں سے آزادی کا مطالبہ کرتی ہے جبکہ حزب المجاہدین بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی ہے۔ انہی نظریات کو لے کر دونوں گروپوں کے درمیان اُنیس سو بانوے میں مسلح تصادم ہوئے اور دونوں کے درجنوں مسلح کارکن مارے گئے۔ لیکن شمس الحق کی برسی پر آج دونوں تنظیموں کے سابقہ کمانڈروں نے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے ایک نئے اتحاد کے خواہاں ہیں۔

لبریشن فرنٹ کے سینئر رہنما جاوید احمد میر نے بیس سال قبل ہوئے گروہی تصادم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ بدقسمتی تھی۔ دراصل بھارتی ایجنسیوں نے ہمیں آپس میں لڑوایا ورنہ ہم سب مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اب تو الحاق اور آزادی کا مسئلہ ختم ہوگیا ہے اور ہم سب حق خودارادیت چاہتے ہیں۔‘

اس موقعے پر مقررین نے الزام عائد کیا کہ وہ وادی میں تعینات حکومتِ ہند کی فورسز اور مقامی پولیس نوجوانوں کو بلاوجہ گرفتار کرتی ہیں اور انسانی حقوق کی بات کرنے والوں سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتِحال کشمیریوں کو دوبارہ مسلح تشدد کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

حزب المجاہدین کے سابق ڈپٹی چیف کمانڈر ظفرعبدالفتح نے اس موقعے پر کہا کہ سیاسی اور عسکری سطحوں پر جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’ کشمیریوں نے شوق کے لیے بندوق نہیں اُٹھائی ہے اور اگر بھارت، پاکستان اور کشمیریوں کی مرضی سے مسئلہ کشمیر حل ہوجائے تو بندوق کا کردار خودبخودختم ہوجائے گا۔‘

شمس الحق کی برسی پر درجنوں سابق عسکری کمانڈر موجود تھے۔ ان میں سے اکثر طویل قید کاٹنے کے بعد علیٰحدگی پسند تنظیموں کے ساتھ وابستہ ہوچکے ہیں۔

شمس الحق جماعتِ اسلامی کے دیرینہ رہنماء تھے اور دو بار انتخابات میں حصہ لینے کے بعد انہوں نے اُنیس سو نواسی میں مسلح مزاحمت کے لیے عسکری گروپ حزب المجاہدین میں شرکت کی اور اُنیس سو ترانوے میں فوج کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے۔

اسی بارے میں