غذائی تحفظ سے متعلق اہم بل منظور

Image caption بھارت میں بہت سے لوگوں کو پیٹ بھر کھانا نہیں مل پاتا ہے

بھارت کی کابینہ نے غریب طبقے کے لوگوں کو سستے داموں پر غذائی اجناس مہیا کرانے سے متعلق ایک اہم ’فوڈ سکیورٹی‘ بل کی منظوری دے دی ہے۔

اس بل کو پارلیمان کے اسی سرمائی اجلاس میں پیش کیا جائیگا اور حکومت کو توقع ہے کہ اسے پارلیمان میں بھی آسانی سے منظور کر لیا جائیگا۔

وزیراعظم منموہن سنگھ کی سربراہی میں ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں اس کی منظوری دی گئی جس کے بعد غذا سے متعلق مرکزی وزیر وی کے تھامس نے کہا کہ اسے اتفاق رائے سے منظور کیا گيا ہے۔

فوڈ سکیورٹی بل کی منظوری کے بعد بھارت کے تقریبا تریسٹھ فیصد لوگ قانوناً رعایتی داموں پر غذائي اشیاء پانے کے حق دار ہوجائیں گے اور حکومت کو اس کے لیے تقریباً اٹھائیس ہزار کروڑ روپے اضافی خرج کرنے پڑیں گے۔

غریبوں کے لیے دیہی روزگارگارنٹی سکیم یعنی نریگا کے بعد یو پی اے حکومت کا یہ دوسرا اہم قدم ہے جس سے سماج کے کمزور طبقے کو فائدہ پہنچےگا۔

منموہن سنگھ کی قیادت میں یو پی حکومت نے اس بل کو لانے کا وعدہ کیا تھا اور اطلاعات کے مطابق کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کا یہ خاص منصوبہ ہے۔

اس بل کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ قانون بننے کے بعد ملک کی تقریبا دو تہائی آبادی کو سستی قیمت پر اناج ملے گا۔ دیہی علاقے کے تقریبا پچھتر فیصد لوگ اس قانون کے دائرے میں آئیں گے۔

اس سے فائد اٹھانے والے لوگوں کو ترجیحی خاندان اور دوسرے معمول کے مطابق والے دو طرح کے خاندانوں میں تقسیم کیا گيا ہے۔ پہلے والی فہرست میں خط غربت سے نیچے والے افراد شامل ہیں جبکہ دوسرے درجہ میں نارمل غریب لوگ شامل ہیں۔

خط غربت سے نیچے والے ہر خاندان کو ہر ماہ حکومت کم سے کم سات کلو گرام گيہوں اور سات کلو چاول مہیا کریگي۔ گیہوں دو روپے فی کلو جبکہ چاول کی قیمت تین روپے فی کلو ہوگي۔ اس کے ساتھ دیگر دال اور دوسرے اناج ایک روپے فی کلو کے حساب سے دیے جائیں گے۔

بھارت میں بیس کروڑ سے زیادہ لوگ شدید غربت میں زندگی بسر کرتے ہیں اور اس موجودہ مہنگائی کے زمانے میں ان کے لیے خوارک ایک اہم مسئلہ ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ کم غذائیت کا شکار بچے بھی بھارت میں ہی پائے جاتے ہیں اسی لیے حکومت نے اس بل میں حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کے لیے خصوصی رعایات کا وعدہ کیا ہے۔

اسی بارے میں