لوک پال:پارلیمانی اجلاس میں توسیع

وزیر قانون سلمان خورشید تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption وزیر قانون کے مطابق حکومت لوک پال بل سے متعلق پوری تیاری کر رہی ہے

بھارت میں بدعنوانی سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر قانون لوک پال سے متعلق بل کا از سر نو جائزہ لیا جارہا ہے اور بعض ترامیم کے ساتھ اسے بحث کے لیے جلد ہی پارلیمان میں پیش کیا جائیگا۔

منگل کے روز حکومت کی طرف سے اعلان کیا گيا ہے اس بل کے لیے حکومت نے پارلیمان کے موجودہ سرمائی اجلاس کو تین روز کے لیے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب اس بل سے متعلق مختلف متنازعہ شقوں پر بحث اور تیز ہوگئی ہے اور انّا ہزارے کی ٹیم نے پھر کہا ہے کہ اگر کمزور بل منظور کیا گيا تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔

اطلاعات ہیں کہ جو بل پارلیمان میں پیش کیا جائیگا اس میں درجنوں تبدیلیوں کی گنجائش ہے اور حکومت تمام جماعتوں کے موقف کو شامل کرنے کے لیے اس کا ازسر نو جائزہ لے رہی ہے۔

لوک پال کے دائرے میں بعض تحفظات کے ساتھ وزیراعظم کی شمولیت اور مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو بھی اس کے دائرے میں لانے کے لیے کئی قابل عمل تجاویز سامنے آئی ہیں اور ترمیم شدہ بل میں انہیں بھی شامل کیا جائیگا۔

بدعنوانی کی روک تھام کے لیے لوک پال بل سے متعلق مختلف حلقوں میں کافی اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن اہم مسئلہ یہ تھا کہ آيا اس کے دائرے میں وزیراعظم کو آنا چاہیے یا نہیں۔

حکمراں جماعت کانگریس سمیت تقریباً تمام بڑی جماعتیں اب اس بات پر متفق ہیں کہ وزیراعظم کو بھی اس کے دائرے میں آنا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں بعض ایسی شرائط شامل ہو گی جس سے وزیراعظم کے معمول کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

دوسرا بڑا مسئلہ سی بی آئی کا ہے۔ لوک پال کے لیے تحریک چلانے والی انّا ہزارے کی ٹیم کا مطالبہ رہا ہے کہ سی بی آئی کو مکمل طور پر لوک پال کے دائرے میں آنا چاہیے۔

اطلاعات ہیں کہ حکومت اس مطالبے کو پوری طرح تسلیم نہیں کریگي لیکن جزوی طور پر اسے لوک پال سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق حکومت لوک پال بل میں مجوزہ ترامیم کو حتمی شکل دی رہی ہے اور اسے بدھ یا جمعرات تک کابینہ کو منظوری کے لیے بھیج دیا جائیگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اننا ہزارے گزشتہ کئی ماہ سے احتجاجی مہم چلائے رہے ہیں

لوک پال بل موجودہ پارلیمانی اجلاس میں پیش کیا جانا تھا لیکن سرمائی اجلاس پہلے سے طے شدہ تاریخ کے مطابق بائیس دسمبر کو ختم ہورہا ہے اور لوک پال بل پر اب بھی تک اتفاقِ رائے کا فقدان ہے۔

پیر کی شام کو اس سلسلے میں کابینہ کی ایک میٹنگ پہلے ہی سے طے تھی لیکن چونکہ لوک پال کا عبوری مسودہ تیار نہیں تھا اس لیے اسے ملتوی کر دیا گيا تھا۔ خبریں ہیں کہ بدھ کی شام کو یہ اجلاس دوبارہ بلایا جائے گا۔

یہ اطلاعات پہلے ہی سی آرہی تھیں کہ حکومت اجلاس میں توسیع کرنے پر غور کر رہی ہے اور منگل کے روز اس کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق کرسمس کی چھٹیوں کے بعد اجلاس ستائیس‎ سے انتیس دسمبر کے درمیان دوبارہ بلایا جا ئیگا۔

اس سے پہلے سرکاری حلقوں میں بدعنوانی کے خلاف روک تھام کے لیے قانون بنانے کا مطالبہ کرنے والے سماجی کارکن انّا ہزارے نے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑے تو لوک پال بل منظور کرانےکے لیے پارلیمان کے اجلاس میں توسیع کرنی چاہیے۔

انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس بل کو سرمائی اجلاس میں متعارف نہیں کرایا گيا تو وہ دوبارہ بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔

اس سے قبل انّا ہزارے نے کہا تھا کہ حکومت نے بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اگر پارلیمان کے سرمائی اجلاس میں ایک سخت قانون منظور نہیں کیا تو وہ ان پانچ ریاستوں میں تحریک شروع کریں گے جہاں جلد ہی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں۔

اسی بارے میں