حافظ سعید، آئی ایس آئی پر فرد جرم کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ممبئی پر حملے میں تقریبا ایک سو ستّر افراد ہلاک ہوئےتھے

بھارتی حکومت نے دو ہزار آٹھ میں ممبئی پر ہوئے حملے کےمعاملے میں امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی، پاکستانی شہری حافظ سعید اور آئی ایس آئی کے دو افسران سمیت نو افراد پر فرد جرم عائد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ممبئی حملے کے کیس سے متعلق وزارت قانون سے رائے مانگی گئي تھی اور اسی کے مشورہ کے بعد وزارت داخلہ نے ان افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کو کہا ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق جن افراد کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے احکامات دیےگئے ہیں اس میں ذکی الرحمن لکھوی، طہور رانا، الیاس کشمیری کے نام کے ساتھ ہیڈلی کے ایک ساتھی ساجد ملک اور ان کے علاوہ عبدالرحمن کا نام بھی شامل ہے۔

پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے جن دو افسروں پر فرد جرم عائد کرنے کو کہا گيا ہے ان کے نام میجر اقبال اور سمیر علی بتائے جا رہے ہیں۔

قومی تفتیشی ٹیم این آئی اے نے ان افراد کے خلاف ایک مقدمہ پہلے ہی درج کیا تھا اور اب ان افراد پر بھارتی دفعات کے تحت ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے جیسے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

اس وقت امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی اور طہور رانا امریکی سکیورٹی حکام کی حراست میں ہیں۔ بھارتی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کو صرف ہیڈلی سے پوچھ گچھ کے لیے محدود اجازت ملی تھی۔

طہور رانا پر امریکی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور وہ ڈنمارک میں دہشت گردی کے ایک واقعے میں تو قصور وار پائے گئے لیکن ممبئی حملے میں وہ بری کر دیے گئے تھے۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں شدت پسندوں نے کئی مقامات پر حملے کیے تھے جس میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک اور ڈھائی سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

ان حملوں کے بعد واحد زندہ بچنے والے حملہ آور اجمل قصاب ممبئی کی جیل میں قید ہیں۔ انہیں عدالت نے متعدد افراد کو ہلاک کرنے کا مجرم قرار دیا ہے اور انہیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی سازش پاکستان میں بنائی گئی اور وہیں سے حملہ آور ممبئی پہنچے تھے۔ بھارتی حکومت کا الزام ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا اور یہ کہ پاکستان نے حملے کی سازش تیار کرنے والوں کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کی ہے۔

پا کستان میں ممبئی حملوں کی مبینہ سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار سات افراد پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے لیکن ان حملوں کی تحقیقات کرنے والے بھارتی حکام کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن جلد بھارت آنے والا ہے۔

ممبئی حملوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور نتجیتاً امن مذاکرات بھی معطل ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں