’فائی کی گرفتاری امریکہ کو مہنگی پڑے گی‘

سید علی شاہ گیلانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سید علی شاہ نے کہا کہ غلام نبی فائی کشمیروں کے سفیر ہیں

امریکہ میں آئی ایس آئی رابطوں کے لیے گرفتار کیے گئے کشمیری لابِسٹ غلام نبی فائی کے حق میں کشمیری گروپوں نے مہم شروع کردی ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حریت کانفرنس اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے سیمیناروں کا اہتمام کیا ہے۔

حریت کے ایک دھڑے نے سنیچرکو سیمینار کا انعقاد کیا اور علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے کہا کہ مسٹر فائی کے خلاف کوئی بھی کاروائی امریکہ کو مہنگی پڑے گی۔

یہ سیمینار معروف علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی رہائیش پر منعقد ہوا اور اس میں حریت رہنماؤں کے ساتھ ساتھ معروف شہریوں اور کالم نگاروں نے بھی شرکت کی۔

غلام نبی فائی کے نمائندہ صریر فاضلی نے امریکہ سے ٹیلی خطاب کیا اور کہا کہ امریکی قانون کے مطابق مسٹر فائی کا کوئی سنگین جرم نہیں ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ مخصوص مفاد رکھنے والی قوتوں نے مسٹر فائی کو آئی ایس آئی ایجنٹ کے طور پروجیکٹ کیا اور انہیں ایک مجرم قرار دیا۔

سید علی گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ غلام نبی فائی کشمیریوں کے سفیر ہیں اور اسی طرح امریکہ و دیگر مغربی ممالک میں کشمیر کی نمائندگی کرتے ہیں جس طرح بھارت کے سفیر دنیا بھر میں اپنے ملکی مفاد کا تحفظ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر مسٹر فائی کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی تو یہ امریکہ کو مہنگا پڑے گا‘۔

مسٹر گیلانی کا کہنا تھا کہ غلام بنی فائی دراصل جماعت اسلامی کے رکن ہیں اور عربی زبان کے ماہر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بیرونی دنیا میں اسلام اور کشمیر کی خدمت کی۔

غلام بنی فائی کو چند ماہ قبل امریکی سراغرساں ادارہ ایف بی آئی نے پاکستانی خفیہ ادارہ انٹر سروسز انٹیلی جنس کے لئے بلااجازت کام کرنے کی پاداش میں گرفتار کرلیا۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے آئی ایس آئی سے سرمایہ لیکر امریکی سرزمین پر بھارت مخالف مباحث کا اہتمام کیا۔ سیمینار میں بتایا کہ ان مسٹر فائی کے اہتمام سے جو مباحث ہوتے تھے ان میں بھارتی دانشور، سیاستدان اور صحافی شرکت کرتے رہے ہیں۔

آج کے سیمینار میں معروف بھارتی صحافی اور حقوق انسانی کے سرگرم کارکن گوتم نولکھا کو بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن انہیں وادی آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انہوں نے اپنا تحریری پیغام بھیجا جس میں انہوں نے بھارتی میڈیا تنقید کی ہے۔ گوتم نولکھا نے لکھا ہے کہ اگر یہ تسلیم بھی کیا جائے کہ بیس سال کے دوران محض پینتیس لاکھ ڈالر کے عوض کشمیرنواز لابنگ کی گئی ہے تو مسٹر فائی نے بہت کم وسائل صرف کرکے بڑا کام کیا ہے۔

سیمینار کے آخر میں علیحدگی پسندوں اور حاضرین نے ایک مشترکہ قرارد منظور کرلی جس میں غلام نبی فائی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔

واضح رہے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے بھی غلام نبی فائی کے حق میں سیمینار کا اہتمام کیا ہے۔

اسی بارے میں