’چھ فروری تک قابلِ اعتراض مواد ہٹائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بائیس ویب سائٹس میں سے صرف دو کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے

بھارتی دارالحکومت نئی دلی کی ایک عدالت نے فیس بک ، گوگل ، یاہو اور مائیکروسافٹ سمیت بائیس سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کو ویب سائٹ پر موجود قابل اعتراض مواد ہٹانے کے لیے چھ فروری تک کی مہلت دی ہے۔

عدالت نے سنیچر کو مذہب مخالف اور سماج مخالف مواد کو ہٹانے والا حکم کی تعمیل کی رپورٹ دینے کا حکم بھی دیا۔

اس سے پہلے ایڈیشنل سول جج مکیش کمار نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو سمن جاری کیے تھے۔

عدالت نے انہیں حکم کی تعمیل کے لیے ڈیڑھ ماہ کا وقت دیا۔

عدالت میں بائیس ویب سائٹس میں سے صرف دو یاہو اور مائیکروسافٹ کے نمائندے پیش ہوئے۔ ان نمائندوں نے عدالت سے کہا کہ انہیں شكايت کی درخواست اور عدالت کے حکم کی نقل نہیں ملی ہے۔

اس پر درخواست گزار مفتی اعجاز ارشد قاسمی کے وکیل نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ کمپنیوں کو درخواست کی کاپی اور دیگر دستاویزات جلد ہی مہیا کر دیں گے۔

چھ فروری کے بعد ان ویب سائٹس کو عدالت میں بتانا ہوگا کہ عدالتی حکم کے مطابق قابل اعتراض اور منفی مواد ہٹانے کے لیے انہوں نے کیا قدم اٹھائے ہیں۔

عدالت نے بیس دسمبر کو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو حکم دیا تھا کہ وہ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا قابل اعتراض مواد چاہے وہ تصویر ، ویڈیو یا تحریری کسی بھی شکل میں ہو فوری طور پر ہٹا لیں۔

اسی بارے میں