کشمیر: فورسزکیمپ میں برادرکشی، تین ہلاک

کشمیر میں فوجیوں کی ایک فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سی آر پی ایف میں اس برس برادرکشی کا یہ پہلا واقعہ ہے

جنوبی کشمیر کے قصبہ کولگام میں واقع نیم فوجی ادارہ سینٹرل رزرو پولیس فورس یا سی آر پی ایف کے تین اہلکار آپس کی جھڑپ میں مارے گئے۔

کولگام کے اعلیٰ پولیس افسر مقصود الزماں نے بی بی سی کو بتایا کہ سی آر پی ایف کے ہیڈ کانسٹیبل سُمن پلے، پی سِبھو، ایس ڈی مورتھی اور جاوید حُسین کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا جس کے بعد ان میں سے کم از کم دو ہلکاروں نے اپنے سروس رائفل سے فائرنگ کی۔ سُمن پلے اور پی سبھو موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ جاوید حسین نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ ایس ڈی مورتھی کی حالت بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس افسر مقصود الزماں نے بتایا کہ یہ واقعہ سی آر پی ایف ( سینٹر رزرو فورس) کی اٹھارویں بٹالین کے ایک مورچے میں ہوا ۔ ان کا کہنا ہے کہ مورچے میں واردات کے وقت موجود دیگر اہلکاروں کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا گیا ہے۔

سی آر پی ایف میں اس سال آپس کی لڑائی کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس سی آرپی ایف میں آپس کی لڑائی یا خودکشی کے ایک سو تینتالیس جبکہ بارڈر سیکورٹی فورس یا بی ایس ایف میں پچہتر واقعات ہوئے۔ اسی سال اپریل میں جنوبی کشمیر کے ہی اننت ناگ ضلع میں ایک فوجی اہلکار نے اپنے چار ساتھیوں کو اپنی ہی بندوق سے ہلاک کردیا تھا۔ مئی میں ایک بی ایس ایف اہلکار کو اپنے ساتھی پر گولی چلانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ’وار فٹیگ‘ یعنی جنگ کی تھکان سے فورس اہلکاروں میں نفسیاتی تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ جلدی مشتعل ہوجاتے ہیں اور کچھ بھی کر بیٹھتے ہیں۔

ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا : ’کسی جنگ زدہ علاقہ میں طویل عرصہ تک تعینات رہنے اور گھر والوں سے دوری کے سبب فورسز کے جوان چڑچڑے ہوجاتے ہیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ فوج یا فورسز میں برادرکشی اور خودکشی کے واقعات کو روکنے کے لئے بھارتی حکام جوانوں کے لئے تفریحی پروگرام منعقد کرتے رہتے ہیں۔ کشمیر اور کرگل میں تعینات فوجی اور نیم فوجی عملے کی تفریح کے لئے پچھلے سال پرینکا چوپڑا اور کٹرینہ کیف کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں