راجستھان:ہڑتال کرنے والے چار سو ڈاکٹرگرفتار

فائل فوٹو
Image caption ہڑتال سے سنگین قسم کے مریضوں کی زندگی خطرے میں ہے

بھارت کی مغربی ریاست راجستھان میں حکومت نے ہڑتال کرنے والے تقریباً چار سو ڈاکٹروں کو گرفتار کیا ہے اور متعدد کو ان کی ملازمت سے برطرف کر دیا گيا ہے۔

سرکاری ڈاکٹر گزشتہ کئی روز سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر ہیں جس سے ہسپتالوں میں بھرتی مریضوں کے لیے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔

ریاست میں پانچ ہزار سے زیادہ ڈاکٹر تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کر رہے ہیں جنہوں نے جمعہ کو اپنے استعفے پیش کر دیے تھے۔

ہڑتال جمعرات سے جاری ہے اور اب حالات سے نمٹنے کے لیے حکومت نے محکمہء ریل اور فوج میں شامل ڈاکٹروں سے مدد طلب کی ہے۔

پیر کے روز ریاستی وزیر صحت عماد الدین خان نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت حالات کو معمول پر لانے کی ہو ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے نئے ڈاکٹروں کی بھرتی شروع کر دی ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں شائع خبروں کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور جمعہ سے اب تک تقریبا پچاس مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں جو مریض بھرتی ہیں ان کی دیکھ بھال نہیں ہو پارہی ہے اور موجودہ صورت حال سے بہت سے لوگ پریشان ہیں۔

حکومت نے لازمی خدمات کے قانون ایسما کے تحت اب تک چار سو ڈاکٹروں کو گرفتار کیا ہے۔ جن بارہ ڈاکٹروں کو معطل کیا گیا ہے اس میں سے دس سینیئر ڈاکٹر ہیں جبکہ دو اعلٰی اہلکار شامل ہیں۔

ریاستی حکومت نے ڈاکٹروں سے بات چیت کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی اور کہا ہے کہ تمام مسائل پر حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن ڈاکٹر بنا کوئی شرط رکھے کام پر واپس آئیں۔

ادھرریاستی وزیراعلی اشوک گہلوت نے بھی ڈاکٹروں سے کام پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہڑتال پر گئے ڈاکٹروں سے ان کی حکومت سختی نمٹے گي، ہم نہیں چاہتے کہ عوام کو بار بار مشکلات کا سامنا ہو۔ ہر سوال پر ہڑتال کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ مریض ڈاکٹروں پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں ایسے مرتے ہوئے چھوڑنا غیر انسانی سلوک ہے۔‘

اسی بارے میں