لوک پال:انّا تین روزہ بھوک ہڑتال پر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انا ہزارے نے بھوک ہڑتال کے آغاز سے قبل گاندھی کی سمادھی پر حاضری دی

ایک طرف جہاں بھارتی پارلیمان میں لوک پال بل پر بحث جاری ہے تو دوسری طرف اس حکومتی بل کی مخالفت میں سماجی کارکن انّا ہزارے نے ایک مرتبہ پھر بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

انّا ہزارے کی ٹیم نے موجودہ بل کو’ کمزور اور بےکار‘ قرار دیا ہے اور بطورِ احتجاج انّا ہزارے منگل سے ممبئی کے ایم ایم آر ڈی میدان میں تین روزہ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔

انّا ہزارے اپنی بھوک ہڑتال کے آغاز سے پہلے جوہو میں واقع مہاتما گاندھی کی مورتی پر حاضری دی اور پھر وہ ممبئی کے ایم ایم آر ڈي اے میدان پہنچے۔

تاہم بعد دوپہر انّا کی ٹیم کی ایک اہم رکن کرن بیدی نے وہاں جمع لوگوں سے کہا کہ انّا ہزارے کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے اس لیے سبھی کو ان سے اپیل کرنی چاہیے کہ وہ بھوک ہڑتال ختم کر دیں اور احتجاجی دھرنا جاری رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انّا جی کو بخار ہے، ان کی طبیعت اچھی نہیں ہے اور دوا خالی پیٹ نہیں کھائی جا سکتی ہے اس لیے آئیے ہم سب مل کر انّا جی سے اپیل کریں کہ وہ بھوک ہڑتال ختم کر دیں اور احتجاج جاری رکھیں‘۔

انّا کی ٹیم کے ایک اور رکن اروند کیجری وال کا کہنا تھا کہ انہوں نے انا سے ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی تھی لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

عام طور پر انّا ہزارے خود عوام سے خطاب کرتے ہیں لیکن آج انہوں نے ابھی تک کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ ان کے علاوہ ٹیم کے دیگر ساتھی وہاں جمع بھیڑ سے خطاب کرتے رہے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق دلی کے رام لیلا میدان والی پہلی تحریک کی طرح ممبئی کے میدان میں بھیڑ جمع نہیں ہوئي ہے۔ دلی کے رام لیلاگرانڈ پر بھی احتجاج کا اہتمام کیا گيا ہے لیکن صبح کے وقت وہاں پر بھی بہت کم بھیڑ تھی۔

حکومت نے ممبئی میں بھوک ہڑتال کے مقام پر سکیورٹی انتظامات کے لیے بڑی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کیے ہیں۔

انا ہزارے نے رواں سال اگست میں بھی بدعنوانی کے خلاف دلی کے رام لیلا گراؤنڈ پر بارہ روزہ بھوک ہڑتال کی تھی جس کے نتیجے میں لوک پال کے معاملے پر قانون سازی کے لیے بھارتی حکومت پر بہت دباؤ پڑا تھا۔

اسی بھوک ہڑتال کے بعد پارلیمان میں سبھی جماعتوں نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ جلد ہی ایک مضبوط لوک پال کو منظوری دیں گے۔ حکومت کی طرف سے یقین دہانی کے بعد ہی انہوں نے بھوک ہڑتال ختم کی تھی۔

انا ہزارے نے اعلان کیا ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں بحث کے بعد بھی طاقتور لوک پال کا مسودہ سامنے نہیں آیا تو ممبئی میں تین دن کی بھوک ہڑتال کے بعد تیس دسمبر کو وہ دلی میں سونیا گاندھی کے گھر کے باہر دھرنا دیں گے۔

اسی دن انا کے حامی پرامن طریقے سے پولیس کو اپنی گرفتارياں بھی دیں گے۔ انٹرنیٹ پر انا کی جیل بھرو تحریک کی حمایت میں اب تک تیرہ لاکھ سے زیادہ لوگ رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔

لوک پال کے سرکاری مسودے میں کچھ شقوں پر انا ہزارے اور حکومت کے درمیان اختلافات ہیں۔ ان میں سب سے بڑا اختلافی معاملہ سی بی آئی کا احتسابی دائرے میں شامل نہ کیا جانا ہے۔ جہاں ایک طرف انا اور ان کے حامی سی بی آئی کو مکمل طور پر لوک پال کے دائرے میں چاہتے ہیں وہیں حکومت کو یہ منظور نہیں۔

اس کے علاوہ انا چاہتے ہیں کہ سی بی آئی کے ڈائریکٹر کی تقرری میں حکومت کا عمل دخل نہ ہو۔ اس کے علاوہ انا کا مطالبہ ہے کہ بدعنوانی کے معاملے کی پوری تحقیقات کا حق لوک پال کے پاس ہونا چاہیے، جبکہ سرکاری بل میں صرف ابتدائی تفتیش کی بات کی گئی ہے۔

اسی بارے میں