انّا کی بھوک ہڑتال اور جیل بھرو تحریک ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انّا کی طبیعت خراب تھی اور بھوک ہڑتال کے سبب اور بد تر ہوگئی ہے

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے سماجی کارکن انّا ہزارے نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔ شام کو انہوں نے سٹیج پر جوس پی کر فاسٹ توڑا۔

انہوں نے کہا ہے کہ تیس اور اکتیس دسمبر کو جو جیل بھرو تحریک شروع ہونی تھی وہ بھی فی الوقت روکی جارہی ہے۔

اس کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے اس کی وجوہات تو نہیں بتائي لیکن کہا کہ ان کا احتجاج جاری رہے گا اور آنے والے وقت میں وہ اپنی حکمت عملی پر بات کریں گے۔

میڈیا سے بات چيت کے دوران انا ہزارے نے اتنا ضرور کہا کہ وہ آنے والی پانچ ریاستوں میں ان لوگوں کے خلاف مہم چلائیں گے جنہوں نے مضبوط لوک پال بل لانے کا وعدہ تو کیا تھا لیکن پھر وہ اسے منحرف ہوگئے۔

اس سے پہلے ڈاکٹروں نے ان کی بگڑتی صحت پر تشویش ظاہر کی تھی اور ان سے فوری طور پر بھوک ہڑتال ختم کرنے کو کہا تھا۔

گزشتہ روز تقریباً دس گھنٹے کی بحث کے بعد بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا نے حکومت کے پیش کردہ لوک پال بل کو منظور کر لیا ہے۔ لیکن انّا ہزارے کی ٹیم نے موجودہ بل کو’ کمزور اور بےکار‘ قرار دیا ہے اور بطورِ احتجاج انّا ہزارے نےممبئی کے ایم ایم آر ڈی میدان میں تین روزہ بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس بار ان کی بھوک ہڑتال میں زیادہ لوگ نہیں پہنچے

یہ بھوک ہڑتال جمعرات کی شام کو ختم ہونی تھی اور پھر جمعہ اور سنیچر کو جیل بھرو تحریک شروع ہونی تھی لیکن فی الوقت دونوں کو ختم کرن ےکا اعلان کیا گيا ہے۔

چوہتر سالہ اناّ ہزارے نے منگل کو بھوک ہڑتال شروع کی تھی لیکن ان کی طبیعت چند روز پہلے ہی سے خراب تھی اور بھوک ہڑتال کے بعد اور بگڑ گئی تھی۔

ممبئی میں جسلوک ہسپتال کے ڈاکٹر اشون مہتا نے بدھ کے روز ان کا معائنہ کرنے کے بعد کہا’ ہم نے پرزور طور پر ان کو بھوک ہڑتال ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ اس بات کا خطرہ ہےکہ ان کے گردے کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔ جسم میں پانی کی کمی کے آثار بھی نمایاں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بخار اب کم ہے اور ایک سو دو ڈگری سے اب صرف سو پر آگیا ہے لیکن ان کا بلڈ پریشر کم ہوتا جا رہا ہے۔’ ہم نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کو کہا ہے اور اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔‘

انا ہزاے کے قریبی ساتھی بھی ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا کہتے رہے تھے لیکن انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

انّا کی ٹیم کے اہم ارکان نے ان سے اپیل کی تھی کہ وہ بھوک ہڑتال ختم کر دیں اور احتجاجی دھرنا جاری رکھیں لیکن انا ہزارے نے اپنا ہڑتال ختم کرنے سے منع کر دیا تھا۔

نامہ نگاروں کے مطابق دلی کے رام لیلا میدان والی پہلی تحریک کی طرح ممبئی کے میدان میں بھیڑ جمع نہیں ہوئي ہے اور اس سے ان کی ٹیم کافی پریشان تھی۔

دلی کے رام لیلاگرانڈ پر بھی احتجاج کا اہتمام کیا گيا ہے لیکن وہاں پر بھی بہت کم لوگ پہنچے ہیں۔

حکومت نے ممبئی میں بھوک ہڑتال کے مقام پر سکیورٹی انتظامات کے لیے بڑی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کیے ہیں۔

انا ہزارے نے رواں سال اگست میں بھی بدعنوانی کے خلاف دلی کے رام لیلا گراؤنڈ پر بارہ روزہ بھوک ہڑتال کی تھی جس کے نتیجے میں لوک پال کے معاملے پر قانون سازی کے لیے بھارتی حکومت پر بہت دباؤ پڑا تھا۔

اسی بھوک ہڑتال کے بعد پارلیمان میں سبھی جماعتوں نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ جلد ہی ایک مضبوط لوک پال کو منظوری دیں گے۔ حکومت کی طرف سے یقین دہانی کے بعد ہی انہوں نے بھوک ہڑتال ختم کی تھی۔

اسی بارے میں