لوک پال بل راجیہ سبھا سے منظور نہ ہو سکا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption راجیہ سبھا میں حکومتی یو پی اے اتحاد کے ترانوے ممبران ہیں جبکہ اسے ستائیس دیگر ارکان کی حمایت حاصل ہے

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی کی علامت بن جانے والا لوک پال بل خود حکومت کی اتحادی جماعتوں اور حزب اختلاف کی سخت مخالفت کی وجہ سے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں منظور نہیں کیا جا سکا۔

حکمراں اتحاد کو راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل نہیں ہے اور جب حکومت کی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس کو اپنے اعتراضات ترک کرنے پر مائل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں تو حکومت نے بل پر ووٹنگ نہ کرانے کا فیصلہ کیا اور ایوان کی کارروائی نصف رات کے کچھ بعد غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

ترنمول کانگریس نے حکومت کے فیصلے کو ’جمہوریت کے قتل‘ سے تعبیر کیا جبکہ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے اور اسے اب ’ایک بھی منٹ اقتدار میں رہنے کا حق حاصل نہیں ہے‘۔

لوک سبھا نے منگل کی شب بل کو منظوری دیدی تھی۔ حکومت کا دعوی ہے کہ وہ اب بھی بل کو منظور کرانے کے وعدے پر قائم ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے لیے کیا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

یا تو اب اس بل کو راجیہ سبھا کے آئندہ اجلاس میں دوبارہ پیش کرنا ہوگا اور اس پر از سرِ نو بحث ہوگی یا اسے پارلیمان کی سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ابھی کسی نظام الاوقات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ترامیم کے بغیر اس بل کی منظوری سے انکار کر دیا ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر نارائن سوامی نے بل پیش کرنے کے بعد بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے اس بل میں سبھی جماعتوں کی رائے کو شامل کیا ہے اس لیے بغیر کسی رکاوٹ کے اسے منظور کیا جانا چاہیے۔

اس پر ایوان میں حزب اختلاف کے رہنما ارون جیٹلی نے اپنے خطاب میں حکومت پر یہ کہہ کر زبردست نکتہ چینی کی ہے کہ حکومت جس ادارہ کو وضع کرنے جارہی ہے اس وہ پورا کنٹرول رکھنا چاہتی ہے جس سے’اس کا اہم مقصد ہی ضائع ہو جائےگا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BJP
Image caption یہ قانون بہت کمزور ہے اور ہمیں قوم کے جذبات کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے:ارون جیٹلی

ارون جیٹلی نے مرکزی تفتیشی ادارہ سی بی آئی کو بھی حکومت کے کنٹرول سے باہر رکھنے کی وکالت کی اور کہا کہ آخر حکومت کو ایسا کرنے میں کیا مشکلات پیش آرہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ قانون بہت کمزور ہے۔ ہمیں قوم کے جذبات کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ آپ ایسا قانون کیسے بنا سکتے ہیں ، جس میں لوک پال کی تقرری اور برخاستگي کا حق حکومت کے ہی ہاتھوں میں ہو؟‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’اس قانون میں تحقیقات کا عمل اتنی ٹیڑھا ہے کہ کبھی کبھی لگتا ہے کہ یہ قانون ہے یا جلیبي؟‘

ریاستوں میں لوک پال کی تقرری کے معاملے پر ارون جیٹلی کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا قانون نہ بنائے جس کے تحت وہ ریاست کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرے۔

دو سو پینتالیس ارکان پر مشتمل راجیہ سبھا میں حکومتی یو پی اے اتحاد کے ترانوے ممبران ہیں جبکہ اسے ستائیس دیگر ارکان کی حمایت حاصل ہے اور اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سے بل کی منظوری آسان نہیں تھی۔

اسی بارے میں