کشمیر: وزیراعلیٰ کے قافلے پر پتھراؤ

Image caption پورے شمالی کشمیر میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شمالی قصبہ اوڑی کے قریب وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے قافلے پر مشتعل ہجوم نے پتھراؤ کیا ہے۔

واقعے کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو منتشر کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اوڑی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پیر کو ہلاک ہونے والے نوجوان کے گھر تعزیت کے لیے گئے تھے۔

عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایاکہ’ عمرعبداللہ جب لواحقین سے تعزیت کے بعد سرینگر کی طرف روانہ ہوئے تو بونیار کے قریب لوگوں نے ان کے قافلے کو روکنا چاہا مگر وہ نہیں رُکے۔ بعد میں نعرے بازی اور پتھراؤ ہوا جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔‘

وزیراعلیٰ نے ہلاک ہونے والے نوجوان کے لیے ایک لاکھ جبکہ زخمیوں کے حق میں پچاس پچاس ہزار روپے کے معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ’ ہم نے پہلے ہی کہا ہے کہ سی آئی ایس ایف ہماری فورسز کا حصہ نہیں ہے بلکہ این ایچ پی سی نے انہیں اپنی حفاظت پر مامور کیا ہے۔ ہم نے قصور واروں کو غیر مسلح کر کے ان سے پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔‘

واضح رہے کہ پیر کو بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر فائرنگ کا یہ واقعہ سرینگر کے شمال میں پچہتر کلومیٹر دُور اُوڑی میں پیش آیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرین نے جب اُوڑی کے بونیار علاقے میں واقعہ بھارت کی نیشنل ہائیڈل پاور کارپوریشن یا این ایچ پی سی کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا تو وہاں تعینات سینٹر انڈسٹریل سکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے اہلکاروں نے فائرنگ کی، جس میں انیس سالہ الطاف احمد سُود نامی طالب علم ہلاک ہوگیا اور چار شہری زخمی ہوگئے۔

بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف پچھلے کئی ہفتوں سے وادی میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور یہاں کے سماجی و سیاسی حلقے حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے وافر وسائل ہونے کے باوجود بجلی پیدا کرنے کے حقوق این ایچ پی سی کو سونپ رکھے ہیں۔

حریت کانفرنس (ع) کے رہنما میر واعظ عمر کہتے ہیں کہ سرکاری دفاتر، فوج اور نیم فوجی دستے نے سات سو کروڑ روپے بجلی کے بلوں کی مد میں ادا نہیں کیے ہیں لیکن حکومت پھر بھی عوام کو قصور وار ٹھہرا کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار چاہتی ہے۔

حزب اختلاف پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کے ترجمان نعیم اختر کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے بجلی کے بحران کے لیے براہ راست لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر عوامی غم و غصے میں اضافہ کیا ہے۔

اسی بارے میں