فوجی سربراہ: عدالت جانے کا کوئی ارادہ نہیں

وی کے سنگھ
Image caption وے کے سنگھ اس برس مئی میں ریٹائر ہوجائیں گے

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے کہا ہے کہ اپنی تاریخ پیدائش پر حکومت کے ساتھ ان کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے اور اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کرانے کا خیال ابھی ان کے ذہن میں نہیں آیا ہے۔

جنرل سنگھ اور وزارت دفاع کے درمیان کافی عرصے سے اس سوال پر رسہ کشی چل رہی ہے کہ ان کی پیدائش کا سال انیس سو پچاس مانا جائے یا اکیاون۔ جنرل سنگھ کا دعویٰ ہے کہ وہ انیس سو اکیاون میں پیدا ہوئے تھے لیکن فوج میں بھرتی کے وقت غلطی سے سنہ پچاس لکھا گیا تھا۔

فوج کے کچھ دستاویزات میں ان کی پیدائش کا سال انیس سو پچاس درج ہے اور کچھ میں ان کے ہائی سکول سرٹفکیٹ کی بنیاد پر اکیاون۔

لیکن وزارت دفاع نے ان کی درخواست مسترد کردی ہے جس کے نتیجے میں انہیں آئندہ برس کے بجائے اسی برس مئی رٹائر ہونا پڑے گا۔

حکومت کے فیصلے کے بعد یہ قیاس آرائیں تیز ہوگئی تھیں کہ جنرل سنگھ یا تو اپنے عہدے کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی مستعفی ہوسکتے ہیں یا حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرسکتے ہیں۔

بہت سے سابق فوجی افسران اور تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان اس محاذ آرائی سے فوج کا حوصلہ متاثر ہو سکتا ہے۔

بظاہران قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کی غرض سے انہوں نے اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ یہ (تاریخ پیدائش کا مسئلہ) ان کا ذاتی معاملہ ہے جس کی وجہ سے انہوں نے عوام کے سامنے کھل کر کوئی بیان دینے سے گریز کیا ہے۔

’(حکومت کے ساتھ) کوئی اختلاف نہیں ہے، کوئی ٹکراؤ نہیں ہے، میں نے ہمیشہ یہ مانا ہے کہ حکومت نے آپ کا تقرر کیا ہے، اور آپ تنظیم کے لیے کام کریں گے۔ اس میں تنازعہ کی گنجائش کہاں ہے؟‘

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جنرل سنگھ نے اس مسئلہ پر براہ راست کوئی بیان دیا ہے۔ لیکن اخبارات میں نامعلوم فوجی اور سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبروں کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے جس میں کبھی حکومت کو تو کبھی جنرل سنگھ کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

بدھ کو ہی اخبار ہندوستان ٹائمز نے اعلی سرکاری ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی تھی کہ جنرل سنگھ وزارت دفاع سے بے حد ناراض ہے اور انہیں لگتا ہے کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے ’جیسے وہ بھارت کی نہیں پاکستان کی فوج کے سربراہ ہوں۔‘

لیکن فوج کے ہیڈکواٹر کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں اس خبر کو غلط بتاتے ہوئے کہا گیا کہ سیکریٹری دفاع سے ایک ’معمول’ کی ملاقات کو ’سنسی خیز‘ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

لیکن جنرل سنگھ نے کہا کہ فوج پر سولین حکومت کا کنٹرول ہوتا ہے اور اس مسلمہ اصول پر انہیں کبھی کوئی شبہہ نہیں تھا۔

’بھارت میں ایک نظام ہے جو وقت کی آزمائش پر کھرا اترا ہے۔ سب کا دائرہ اختیار بالکل واضح ہے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے لہذا اس(اصول) پر شبہہ کرنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔‘

مبصرین کا خیال ہے کہ اس تنازعہ سے فوج کی ساکھ متاثر ہورہی ہے اور حکومت اور جنرل سنگھ دونوں کو زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا۔

لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا جنرل سنگھ اپنے عہدے کی مدت پوری کریں گے یا پہلے ہی مستعفی ہو جائیں گے کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو فوج کے نئے سربراہ کی تقرری کا معاملہ کافی پیچیدہ ہوجائے گا۔

اسی بارے میں