پاکستان کا پرچم لہرانے پر گرفتاری

فائل فوٹو
Image caption گرفتار کیے جانے والے افراد کالج کے طالب علم بتائے جاتے ہیں

بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک میں پولیس نے ایک سرکاری عمارت پر پاکستان کا جھنڈا لہرانے کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کیا ہے جن کا تعلق ہندو قوم پرست تنظیم شری رام سینا سے بتایا گیا ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان لوگوں نے نئے سال کے موقع پر بیجاپور ضلع میں سندھگی کے تحصیلدار کے دفتر پر پاکستان کا پرچم بلند کیا تھا تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ یہ مسلمانوں کا کام ہے اور علاقے میں مذہب کی بنیاد پر کشیدگی پیدا ہوجائے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق بیجاپور کے پولیس سربراہ ڈی سی راجپا نے گرفتاریوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کا خیال تھا کہ مذہبی کشیدگی سے ان کی تنظیم کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔

شری رام سینا ایک قدامت پسند تنظیم ہے جو ملک کی تہذیب اور سماجی اقدار کے تحفظ کے نام پر نوجوانوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اس کے کارکنوں نے ایک شراب خانے میں لڑکیوں کے ساتھ مار پیٹ کی تھی۔

لیکن اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق شری رام سینا کے سربراہ پرمود متھالک کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے نوجوانوں کا ان کی تنظیم سے تعلق نہیں ہے اور وہ قصوروار افراد کا پتہ لگانے کے لیے اپنے طور پر تفتیش کریں گے۔

گرفتار کیے جانے والے افراد کالج کے طالب علم بتائے گئے ہیں اور ان کی عمریں اٹھارہ سے بیس برس کے درمیان ہیں۔ ساتویں ملزم کی تلاش جاری ہے۔

تحصیلدار کے دفتر پر پاکستانی پرچم لہرائے جانے کے بعد علاقےمیں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی اور بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور خود شری رام سینا نے پیر کو عام ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

اس واقعہ کے بعد ہندو تنظیموں سے وابستہ نوجوانوں نے پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا تھا اور جگہ جگہ ٹائر جلائے تھے جس کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا۔

بیجاپور کے ایس پی کے مطابق پاکستان کا جھنڈا گرفتارا شدہ افراد میں سے ایک کے گھر پر بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں