’مایا کے مجسموں کو ڈھکا جائے‘

مایاوتی تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption مایاوتی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے مجسمے بنوانے پر کروڑوں روپئے خرچ کیے ہیں

بھارت میں الیکشن کمیشن نے حکم دیا ہے کہ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے دوران وزیر اعلیٰ مایاوتی اور ان کے انتخابی نشان ہاتھی کے مجسموں کو ڈھک دیا جائے۔

لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران مایاوتی کے تمام مجسموں کو کپڑے سے ڈھک دیا جا‏‏ئے۔

اترپردیش میں بہوجن سماجی پارٹی کی حکومت ہے اور ریاست کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں وزیر اعلیٰ مایاوتی اور ان کے انتخابی نشان ہاتھی کے مجسمے لگائے گئے ہیں۔

مایاوتی کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ جگہ جگہ ان مجسموں کی موجودگی سے مایاوتی کی جماعت کو انتخابات میں فائدہ پہنچے گا اور حزب اختلاف کے کئی رہنماؤں نے الیکشن کمیشن سے مجسموں کے بارے میں شکایت کی تھی۔

اترپردیش میں ڈیڑھ دہائی سے زیادہ کی سیاسی غیر یقینی کے بعد دو ہزار سات کے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی نے واضح اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی تھی۔ گزشتہ پانچ برسوں میں انہوں نے خاص طور پر لکھنؤ اور دلی سے ملحق نوئیڈا میں اربوں روپے کی لاگت سے بڑے بڑے پارک تعمیر کیے ہیں جن میں پسماندہ ذاتوں کے عظیم رہنماؤں کے دیو قامت مجسمے نصب کیے گئے ہیں۔

لیکن مایاوتی کے مخالفین کہتے ہیں کہ وہ ملک کی واحد رہنما ہیں جنہوں نے اپنی ہی زندگی میں جگہ جگہ اپنے مجسمے لگوائے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ مجسموں کو ڈھکوانے کا فیصلہ چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے لکھنؤ میں ایک میٹنگ کے دوران کیا جس میں انتخابات کے لیے کی جانے والی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اترپردیش میں انتخابات چار فروری سے سات مراحل میں کرائے جائیں گے اور ووٹوں کی گنتی چار مارچ کو ہوگی۔

اسی بارے میں